1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کِم جونگ اُن، مزید طاقتور

شمالی کوریا نے ایک نیا سپریم گورننگ کمیشن تشکیل دیا ہے جس کا چیئرمین ملکی سربراہ کِم جونگ اُن کو مقرر کیا گیا ہے۔ اس عہدے کے بعد 33 سالہ اُن کو ریاست کے تمام تر امور اور پالیسیوں پر مکمل دسترس حاصل ہو گئی ہے۔

شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ میں اعلیٰ ترین پیپلز اسمبلی (SPA) نے کِم جونگ اُن کو متفقہ طور پر نئی تشکیل کی گئی ’اسٹیٹ افیئرز کمیشن‘ کا چیئرمین منتخب کیا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق یہ نیا کمیشن دراصل نیشنل ڈیفنس کمیشن کی جگہ لے گا اور ملک میں حکومت کی اعلٰی ترین برانچ اور سپریم پالیسی ساز ادارہ ہو گا۔ اس کمیشن کے چیئرمین کے طور پر اس عہدے میں فوج، ملک اور پارٹی کی قیادت کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے عہدے کے ذریعے کِم جونگ اُن صدر کا عہدہ سنبھالنے کی منزل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

کِم جونگ اُن کو اس عہدے کے لیے نامزد کرتے ہوئے SPA کے صدر کِم یونگ نام کا کہنا تھا کہ یہ کم جونگ اُن پر ملکی افواج اور لوگوں کا غیر متزلزل اور مضبوط اعتماد اور خواہش ہے کہ انہیں شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز کیا جائے۔

سیؤل میں قائم سیجونگ انسٹیٹیوٹ تھِنک ٹینک میں شمالی کوریا کے امور کے ماہر چیونگ سیونگ چینگ کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے کِم جونگ اُن کا عہدہ ریاست کے اعلیٰ ترین سربراہ کا بن گیا ہے۔ چیونگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’ یہ عہدہ ’ریاست کے صدر‘ کے برابر ہے جو اُن کے دادا کِم اِل سُنگ کو 1972ء میں دیا گیا تھا۔‘‘

کِم اِل سُنگ کو 1994ء میں اُن کے انتقال کے بعد ملک کا ’ابدی صدر‘ قرار دے دیا گیا تھا اور اسی لیے تب سے یہ عہدہ خالی رکھا جا رہا ہے۔

کِم جونگ اُن کا یہ نیا عہدہ اپنے والد کِم جونگ اِل کی پالیسیوں سے دوری اختیار کرنے کی ایک اور علامت بھی ہے جو 2011ء میں اپنے انتقال تک نیشنل ڈیفنس کمیشن کے چیئرمین کے طور پر شمالی کوریا پر حکمرانی کرتے رہے تھے۔ نئے کمیشن کی تشکیل کے بعد اب نیشنل ڈیفنس کمیشن کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ نئے کمیشن کے تحت کِم جونگ اُن کے نیچے تین وائس چیئرمین ہوں گے، جو براہ راست فوج، پارٹی اور حکومتی معاملات کے ذمہ دار ہوں گے۔

اے ایف پی کے مطابق نیشنل ڈیفنس کمیشن دفاع اور سکیورٹی سے متعلق معاملات کا ذمہ دار تھا، تاہم کِم جونگ اِل کی طرف سے اختیار کی گئی ’ملٹری فرسٹ پالیسی‘ یعنی فوج سب سے پہلے، کے تحت یہ کمیشن دفاع کے علاوہ دیگر معاملات سے متعلق پالیسی سازی کا کام بھی کرتا رہا تھا۔