1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کُشنر نے روس کے ساتھ خفیہ رابطہ لائن قائم کرنے کی تجویز دی، رپورٹ

واشنگٹن پوسٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے داماد جیرڈ کُشنر نے روسی سفارت کار کو رابطہ کاری کے لیے خفیہ اور بَگ فری کمیونیکیشن لائن قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے روس کے ساتھ تعلقات کا اسکینڈل دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ امریکی صدر کے چھتیس سالہ داماد جیرڈ کُشنر  ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی مشیر ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق وہ ایک ملاقات میں یہاں تک چلے گئے کہ انہوں نے امریکا میں قائم روسی سفارت خانوں کے لیے ایسا ذریعہ استعمال کرنے کی تجویز دی، جسے امریکی نگرانی سے بچایا جا سکے۔

یہ نیا الزام روس کے ساتھ امریکی صدر کے رابطوں کے حوالے سے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنساں پہلے ہی متعدد بار یہ الزام عائد کر چکی ہیں کہ ہیلری کلنٹن کی ہار اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں روس نے کردار ادا کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ہیں اور امریکا واپس جاتے ہی انہیں اس نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز نیویارک میں قائم ٹرمپ ٹاور میں یکم یا دو دسمبر کو دی گئی تھی اور امریکا کی طرف سے ان معلومات کا جائزہ روسی مواصلات کے پکڑے جانے کے بعد لیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبل ازیں امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیکل فلین کو اپنی ملازمت کے چوبیس دن پورے کرنے سے پہلے ہی مستعفی ہونا پڑ گیا تھا کیوں کہ انہون نے روسی سفارت کار کے ساتھ ہونے والی ملاقات سے متعلق حقائق چھپائے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ روسی سفارت کار  امریکی صدر کے داماد کُشنر کی خفیہ اور محفوظ رابطے کی تجویز سے حیران ہوئے تھے اور انہوں نے فوری طور پر یہ تجویز کریملن روانہ کر دی تھی۔ تاہم اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ایسا کس طرح کیاجائے گا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ سے شادی کرنے والے کُشنر رئیل اسٹیٹ ڈویلپر ہیں اور امریکی صدر کی بیٹی نے ان سے شادی کے بعد یہودی مذہب اختیار کر لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں میڈیا اور امریکی سیاست میں کُشنر پر توجہ مرکوز رہے گی۔

امریکی صدر کے پہلے غیر ملکی دورے میں کُشنر کی موجودگی کو خاص طور پر محسوس کیا گیا ہے کیوں کہ مشرق وسطیٰ پالیسی سے لے کر امریکی بیوروکریسی میں تبدیلیوں تک سبھی کے پیچھے اس ’خاموش مرکزی کردار‘  کا ہاتھ شامل ہے۔ دوسری جانب اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے فوری بعد کُشنر نے کانگریس میں ان ملاقاتوں کے حوالے سے بات کرنے کی پیش کش کی ہے۔

ایک ہفتہ پہلے یہ خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ روس کے حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ وسیع کرتے ہوئے ’وائٹ ہاؤس کی ایک اہم شخصیت‘ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ ابھی تک  وائٹ ہاؤس میں کُشنر وہ واحد شخص ہیں، جو زیر تفتیش ہیں۔