1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کُرد تنظیم کو اسلحےکی فراہمی کا امریکی منصوبہ قبول نہیں، ترکی

ترکی نے امریکا کی جانب سے کرد ملیشیا ’وائی پی جی‘ کو اسلحے کی فراہمی کے منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔  ترک حکومت نے توقع  ظاہر کی ہے کہ امریکا اس غلطی کا ازالہ کرے گا۔

Syrien YPG in Rakka (picture-alliance/dpa/S. Suna)

وائی پی جی شام میں اسلامک اسٹیٹ سے لڑنے والے بین الاقومی اتحاد میں شامل ہے

واشنگٹن حکومت نے منگل نو مئی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا شام میں اسلامک اسٹیٹ سے برسرپیکار کرد جنگجوؤں کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کرے گا۔ ترک نائب وزیر اعظم نے ترک ٹی وی ’اے ہابر‘  سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’وائی پی جی کو اسلحے کی فراہمی ناقابلِ قبول ہے۔ ایسی پالیسی کسی کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو گی۔‘‘

 ترک حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا اس غلطی کو درست کرے گا۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق وائی پی جی کو مہیا کیا جانے والا ہر ایک ہتھیار ترکی کے لیے خطرہ ہے۔ انقرہ حکومت ’وائی پی جی‘ نامی کرد ملیشیا تنظیم کو کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کا ایک مسلح بازو قرار دیتی ہے جبکہ امریکا وائی پی جی کو شام میں جنگجوؤں کے خلاف اپنا بہترین اتحادی تصور کرتا ہے۔

انقرہ حکومت کا موقف ہے کہ وائی پی جی ترکی میں درجنوں افراد کی ہلاکت کا باعث بننے والے حملوں میں ملوث رہی ہے اور دراصل ترک ریاست کے خلاف تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے برسرِپیکار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی پی کے کے کی شامی شاخ ہے۔ امریکا پی کے کے کو تو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے تاہم وہ وائی پی جی کے معاملے میں ترکی کا ہمنوا بننے سے کترا رہا ہے۔

 پینٹاگون کے مطابق وہ ترکی کے خدشات سے بخوبی آگاہ ہے، جنہیں جلد دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وائی پی جی شام میں اسلامک اسٹیٹ سے لڑنے والے بین الاقومی اتحاد میں شامل ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے علاقے الرقہ میں جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف شامی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے والی کرد ملیشیا تنظیم کو  عسکری سازوسامان سے لیس کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ فتح کو یقینی بنایا جا سکے۔

امریکا کی جانب سے کرد ملیشیا کو اسلحے کی فراہمی کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئندہ ہفتے ہی ترک صدر رجب طیب ایردوآن واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔

DW.COM