کَیلے کے نوعمر مہاجرین کو سخت برطانوی قوانین کا سامنا | معاشرہ | DW | 17.11.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کَیلے کے نوعمر مہاجرین کو سخت برطانوی قوانین کا سامنا

فرانس کا کہنا ہے کہ برطانیہ کَیلے کے نوعمر مہاجرین کو قبول کرنے کے سلسلے میں اپنے وعدے کا احترام نہیں کر رہا۔ خیال کیا گیا ہے کہ ایسے مہاجر بچوں کے برطانیہ میں داخلے کے لیے سخت قوانین وضع کیے گئے ہیں۔

فرانس میں جو بچے برطانیہ میں اپنے رشتہ داروں تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں، اُن کو کَیلے کے مقام پر ختم کر دیے گئے مہاجر کیمپ ’جنگل‘ سے پیرس حکام نے کسی علیحدہ جگہ پر منتقل کر رکھا ہے۔ ان بچوں کے خاندان یا رشتہ دار برطانیہ میں مقیم ہیں اور یہ بچے بھی وہاں جانے کے متمنی ہیں۔ پیرس حکام کا کہنا ہے کہ اِس جنگل بستی کے انہدام سے قبل برطانیہ نے ایسے مہاجر بچوں کو قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب لندن حکومت پس و پیش کر رہی ہے۔

Frankreich Dschungel von Calais Immigranten Demonstration Lebensbedingungen Flash-Galerie (AP)

برطانیہ کی وزارت داخلہ نے رواں ہفتے کے دوران پیر کے روز نئے رہنما ضوابط عام کیے ہیں اور ان میں تعین کیا گیا ہے کہ کَیلے کے مہاجر بچوں کو برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت کس طرح دی جائے گی۔ ان اصولوں کی روشنی میں برطانیہ میں داخل ہونے والے مہاجر بچے اپنی نئی زندگی کی شروعات کر سکیں گے۔ ان نئے ضوابط میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بچہ شام یا سوڈان سے تعلق رکھتا ہے اور اُس کی عمر پندرہ برس یا اُس سے کم ہے تو وہ برطانیہ داخل ہونے کا اہل ہے۔ اگر کوئی بچہ کسی اور ملک سے ہے تو اُس کے لیے برطانوی وزارت داخلہ نے ملکی حدود میں داخل ہونے کی اہلیت کی عمر بارہ برس مقرر کر دی ہے۔ ان بچوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر کسی کو شدید جنسی زیادتی کا خطرہ کا سامنا ہوتو وہ بھی حکام کو مطلع کر سکتا ہے، اس سلسلے میں اُن کے معاملے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

برطانوی وزارت داخلہ کی گائیڈ لائنز کے مطابق وہ مہاجر بچے بھی برطانیہ داخل ہونے کی درخواست دے سکتے ہیں، جو یورپ میں رواں برس بیس مارچ سے قبل داخل ہوئے ہوں اور پھر وہ چوبیس اکتوبر سے قبل کَیلے کے جنگل کیمپ پہنچے ہوں۔ ان بچوں کے لیے برطانیہ میں داخل ہونے کا حتمی فیصلہ لندن حکام بچوں کے بہترین مفاد میں کریں گے۔

کَیلے کے منہدم ہونے والے جنگل کیمپ سے اب تک تین سو سے زائد بچے برطانیہ میں پہنچ چکے ہیں۔ ان میں انیس لڑکیاں گزشتہ ویک اینڈ پر اسکاٹ لینڈ پہنچی ہیں۔ ابھی سولہ  ہزار سے زائد سے نو عمر مہاجر برطانیہ پہنچنے کے متمنی ہیں اور برطانیہ کی حکومت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔