1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کيلے کے بعد پيرس کے مہاجر کيمپ کا بھی صفايا

پناہ گزينوں کو ملک کے مختلف شہروں کی سڑکوں اور غير سرکاری کيمپوں سے منتقل کرنے کے سلسلے ميں فرانسيسی حکام نے کيلے کے بعد آج دارالحکومت پيرس کے شمال مشرقی حصے ميں قائم ايک بڑے کيمپ کو بھی منہدم کرنا شروع کر ديا ہے۔

فرانسيسی دارالحکومت پيرس کے اسٹالن گراڈ نامی محلے ميں قائم غير سرکاری کيمپ سے پناہ گزينوں کے منتقلی کا عمل جمعہ چار نومبر کی صبح شروع کيا گيا۔ پوليس نے علی الصبح کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے خيموں کے اندر اور کھلے آسمان تلے بستروں پر سوتے ہوئے پناہ گزينوں کو جگايا اور انہيں بسوں کے ذريعے مختلف مقامات پر منتقل کر ديا۔ خبر رساں ادارے اے ايف پی کی رپورٹوں کے مطابق منتقلی کا کام کافی منظم انداز ميں ہوا اور کسی مزاحمت يا مخالفت کی کوئی رپورٹ موصول نہيں ہوئی۔ البتہ اکثريتی مہاجرين بوکھلائے ہوئے نظر آئے اور ايسا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ اس بات سے ناواقف ہيں کہ کيا ہو رہا ہے۔ اس کيمپ ميں تقريباً تين ہزار پناہ گزين مقيم تھے۔ اسٹالن گراڈ کے اس کيمپ ميں موجود اکثريتی پناہ گزينوں کا تعلق افغانستان، سوڈان يا اريٹريا سے ہے۔

پيرس ميں اسٹالن گراڈ کا علاقہ مہاجرين ميں کافی مقبول ہے۔ يہی وجہ ہے کہ حکام کئی مرتبہ اس علاقے سے مہاجرين کو منتقل کر چکے ہيں تاہم وہ دوبارہ اسی علاقے ميں اکھٹے ہو جاتے ہيں۔ فرانس ميں عام انتخابات سے چھ ماہ قبل سوشلٹ صدر فرانسوا اولانڈ نے اس عہد کا اظہار کيا ہے کہ وہ فرانس کی سڑکوں پر مقيم اور غير سرکاری کيمپوں ميں رہنے والے پناہ گزينوں کو باقاعدہ مہاجر کيمپوں ميں منتقل کرائيں گے۔ انہوں نے يہ بھی کہا ہے کہ فرانس کو پناہ گزينوں کو بہتر انداز ميں خوش آمديد کہنا ہو گا۔ انسانی حقوق سے منسلک کارکنان نے مہاجرين کے ساتھ بہتر برتاؤ کے حوالے سے نئی سياسی حکمت عملی کا خير مقدم کيا ہے تاہم انہوں نے يہ بھی کہا ہے کہ فرانس نے اس بحران سے نمٹنے ميں ابتداء ہی سے کافی سست روی کا مظاہرہ کيا ہے۔

قبل ازيں چوبيس اکتوبر کو فرانسيسی حکام نے شمالی شہر کيلے کے کيمپ کو خالی کرانے کا عمل بھی شروع کر ديا تھا۔ اپنے عروج پر تقريباً دس ہزار افراد کی پناہ گاہ کيلے کا ’جنگل‘ کہلانے والا مہاجر کيمپ انتہائی ناقص سہوليات و حالات کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔

فرانس ميں گزشتہ برس سياسی پناہ کی ساڑھے تہتر ہزار تازہ درخواستيں دائر کی گئی تھی جبکہ حکام کا اندازہ ہے کہ رواں رواں ميں تقريباً ايک لاکھ ايسی درخواستيں موصول ہو سکتی ہيں۔

ملتے جلتے مندرجات