1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کيا فٹ بال کی مدد سے يورپ آنا ممکن ہے؟

افريقی رياست نائجر کے شہر اگاديز کو انسانوں کی اسمگلنگ کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ يورپ آنے کے خواہش مند سينکڑوں نوجوان وہاں اب فٹ بال کھيل کر گزر بسر کر رہے ہيں۔ انہيں اميد ہے کہ يہی کھيل ان کے یورپ آنے کہ وجہ بن سکے گا۔

افريقی ملک نائجر کا شہر اگاديز صحرائے اعظم کے کنارے واقع ہے۔ اسے انسانوں کی اسمگلنگ کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔ ليبيا يا الجزائر ميں ملازمت کرنی ہو يا پھر وسطی بحیرہ روم کے راستے يورپ کی طرف ہجرت، افريقہ کے مختلف خطوں سے تارکين وطن اسی شہر ميں جمع ہوتے ہيں۔ اس حقيقت کا ايک دلچسپ پہلو ايک فٹ بال ٹيم کا قيام ہے۔ لاتعداد مہاجرين يا تو رقم کی عدم دستيابی کی وجہ سے يا پھر يورپ جانے کی کوشش ناکام ہو جانے کے سبب، خود کو طويل عرصے تک اگاديز کی آغوش ميں پاتے ہيں۔ فراغت اور بے يقينی ميں چند ايک نے اپنا دل بہلانے اور وقت کاٹنے کے ليے فٹ بال کا راستہ اختيار کيا۔ يوں ديکھتے ہی ديکھتے اب وہاں ايک مقامی فٹ بال ٹيم بن چکی ہے۔

’ناصارا اگاديز‘ نائجر کی دوسری ڈيويژن کی ٹيم ہے۔ اس ٹيم کا ايک رکن اور ماضی میں آئيوری کوسٹ کے ايک کلب کے ليے کھيلنے والا سولہ محمد ديابی کہتا ہے، ’’کلب کے صدر نے مجھ سے وعدہ کيا ہے کہ وہ مجھے يورپ لے کر جائيں گے۔‘‘ ديابی کے بقول اس کے آبائی ملک ميں بہت زيادہ لوگ فٹ بال کھيل کر زندگی ميں آگے بڑھنا چاہتے ہيں اور اسی سبب وہاں مواقع کی کمی ہے۔ وہ اب کہيں اور اپنی قسمت آزمانے نکلا ہے۔ کلب کے صدر بشير آما ماضی ميں مہاجرين کو ليبيا تک پہنچانے کا کام کيا کرتے تھے۔ انہوں نے ديابی سے وعدہ کيا ہے کہ اگر وہ ايک سيزن ان کے کلب کے ليے کھيلتا ہے، تو وہ اسے يورپ بھيجنے کے ليے رقم کا بندوبست کر ديں گے۔

يہ امر اہم ہے کہ ديابی ’ناصارا اگاديز‘ کی ٹيم ميں کھيلنے والا واحد مہاجر نہيں، اس ٹيم ميں مجموعی طور پر آٹھ مہاجرين ہيں۔ ان ميں نائجيريا اور آئيوری کوسٹ کے چار چار کھلاڑی شامل ہيں، جنہيں رہائش کے بندوبست کے علاوہ ماہانہ بنيادوں پر ڈيڑھ سو يورو کے برابر رقم ملتی ہے۔ کلب کے صدر نے بتايا کہ ٹيم ميں کھيلنے والے تقريباً تيس افراد کی اکثريت ايسے مہاجرين پر مشتمل ہے، جو ملازمت يا يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت کے مقصد سے اگاديز آئے تھے۔ ’’اپنی ضروريات پوری کرنے کے ليے انہيں ملازمت کی ضرورت تھی اور چونکہ يہ فٹ بالر تھے، انہيں يہ کام مل بھی گيا۔‘‘

بين الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق اگاديز شہر ميں تقريباً تين لاکھ پينتيس ہزار تارکين وطن ايسے ہيں جو در اصل اس شہر سے نہيں ہیں اور شمال کی طرف بڑھنا چاہتے ہيں اور قريب ايک لاکھ گيارہ ہزار ايسے، جو کسی اور ملک کی جانب نقل مکانی کرنے کے خواہشمند ہيں۔

ویڈیو دیکھیے 02:19

’ریفیوجی الیون‘ گیارہ مہاجرین اور فٹ بال کے گیارہ ہی ستارے

Audios and videos on the topic