1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کيا روہنگيا مسلمانوں کی روداد سن لی گئی ہے؟

اقوام متحدہ کی سابق سيکرٹری جنرل کوفی عنان کی قيادت ميں ايک کميشن نے ميانمار کی حکومت پر زور ديا ہے کہ سن 2012 ميں ہونے والے فسادات کے بعد سے کيمپوں ميں پھنسے روہنگيا مسلمانوں کو آزاد کيا جائے۔

کميشن کی ابتدائی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر جمعرات سولہ مارچ کو اس کے ايک رکن غسان سلامے نے کہا، ’’کميشن اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کے ليے راکھين رياست ميں قائم تمام کيمپوں کی بندش کے منصوبے پر زور ديتی ہے۔‘‘ اس کميشن کی رپورٹ ميں حکومت سے يہ مطالبہ کيا گيا ہے کہ کيمپوں سے آزاد کيے جانے والے افراد کے ليے تحفظ اور روزگار کے مواقع کا انتظام کيا جائے۔ متاثرہ افراد کے ليے کسی نئے مقام پر مکانات تعمير کرنے کا مطالبہ بھی کيا گيا ہے۔ رپورٹ ميں يہ بھی کہا گيا ہے کہ روہنگيا مسلمانوں کو ميانمار کی شہريت کے حصول کے ليے واضح راستہ فراہم کيا جانا چاہيے اور جن لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی ہے، اسے بھی ختم ہونا چاہيے۔

ميانمار ميں سن 2012 کے دوران بدھ مذہب کے ماننے والوں اور روہنگيا مسلمانوں کے مابين رونما ہونے والے نسلی فسادات کے نتيجے ميں قريب ايک لاکھ بيس ہزار روہنگيا بے گھر ہو گئے تھے۔ يہ لوگ اسی وقت سے کافی خستہ حال کيمپوں ميں وقت گزار رہے ہيں۔ انہيں نہ تو وہاں مناسب خوارک اور ديگر بنيادی سہوليات ميسر ہيں اور نہ ہی تعليم و ملازمت کے مواقع۔ ميانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے اقوام متحدہ کے سابق سيکرٹری جنرل کوفی عنان کو گزشتہ برس يہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ ايک کميشن کی قيادت کرتے ہوئے رياست راکھين ميں مسلمانوں اور بدھ مذہب کے ماننے والوں کے مابين سالہا سال سے چلی آ رہی کشيدگی کا حل تلاش کريں۔

کوفی عنان کميشن کے ايک رکن غسان سلامے نے بتايا ہے کہ ابتدائی طور پر تين ايسے کيمپوں کی شناخت ہو گئی ہے، جنہيں فوری طور پر بند کر ديا جانا چاہيے۔ کميشن نے اپنی رپورٹ ميں شمالی راکھين ميں مبينہ تشدد کے واقعات کی آزادانہ تحقيقات کی حمايت کی ہے تاہم يہ بھی واضح کيا کہ يہ ان کے دائرہ اختيارات سے باہر ہے۔ آنگ سان سوچی کے دفتر نے اس رپورٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ميں بيان کردہ تجاويز پر عملدرآمد کيا جائے گا تاہم اس بارے ميں مزيد کوئی تفصيلات نہيں بتائی گئيں۔

روہنگيا مسلمانوں کے ساتھ نسلی امتیاز اور تشدد  کی رپورٹوں کے سبب ميانمار ايک عرصے سے بين الاقوامی سطح پر تنقيد کی زد ميں رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے تفتيش کاروں نے جن متاثرہ افراد سے بات چيت کی، وہ ملکی سکيورٹی فورسز پر بڑے پيمانے پر آبروريزی، قتل عام اور تشدد کے الزامات عائد کرتے ہيں۔