1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کویت میں پارلیمان پر مخالفین کا دھاوا

کویت میں جمعرات کو امیر شیخ صباح احمد الصباح کی زیر قیادت کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں کل مظاہرین کی جانب سے پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کے واقعے پر غور کیا گیا۔ ادھر آج حزب اختلاف کا بھی ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے.

default

بدھ کو درجنوں حکومت مخالف مظاہرین نے پارلیمنٹ پر اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب اس میں وزیر اعظم شیخ ناصر المحمد الصباح پر بدعنوانی کے الزامات کی بحث جاری تھی۔ مظاہرین عمارت میں زبردستی داخل ہو گئے اور انہوں نے نعرے لگائے۔ ان کے ہمراہ حزب اختلاف کے متعدد اراکین بھی تھے جو گزشتہ کئی ماہ سے وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بعد میں مظاہرین کو پارلیمنٹ سے بزور طاقت نکالنا پڑا جہاں باہر سینکڑوں افراد پہلے ہی مظاہرہ کر رہے تھے۔

حزب اختلاف کے اراکین وزیر اعظم سے ان الزامات پر باز پرس چاہتے ہیں کہ بعض سرکاری حکام نے رقوم غیر قانونی طور پر اس خلیجی ملک سے باہر منتقل کی۔ گزشتہ ماہ اسی اسکینڈل پر کویت کے وزیر خارجہ نے بھی استعفٰی دے دیا تھا۔

Kuwaitisches Parlament wird aufgelöst - Fernsehansprache des Emirs

کویت کے امیر شیخ صباح احمد الصباح نے جنوری میں ہر کویتی شہری کو ایک ہزار دینار گرانٹ اور مفت غذائی کوپن دینے کا اعلان کیا تھا

پارلیمان میں ہونے والی رائے شماری میں اگرچہ حکومت نواز اراکین پارلیمان نے وزیر اعظم کے مواخذے کی تحریک ناکام بنا دی تاہم حزب اختلاف کے گروپوں نے ایک اور تحریک پیش کی جس کے تحت رواں ماہ کے اواخر میں اس معاملے پر پارلیمان میں بحث ہو گی۔

بدھ کے واقعے کے بعد پارلیمان کا معمول کا اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا۔  اگرچہ کویت کے امور مملکت کی باگ ڈور حکمران خاندان الصباح کے ہاتھ میں ہے لیکن وہاں خطے کی سیاسی لحاظ سے ایک سب سے زیادہ متحرک پارلیمان موجود ہے اور حزب اختلاف کے اراکین حکمران خاندان پر بھی کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔

Irak USA Truppen verlassen Irak Richtung Kuwait Foto

کویت میں امریکہ کے ہزاروں فوجی موجود ہیں اور عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد ان کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے

وزیر اعظم شیخ ناصر المحمد الصباح ماضی میں بھی پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں اور فی الوقت کویت کے نظام حکومت کو حزب اختلاف کی طرف سے کوئی بڑا خطرہ دکھائی نہیں دے رہا۔ حزب اختلاف میں دیگر کے علاوہ اسلامی جماعتیں بھی شامل ہیں۔

عرب دنیا کے دیگر ملکوں سے متاثر ہو کر کویت میں اصلاحات لانے کے مظاہرے ابھی نہیں ہوئے۔ ان مظاہروں کے ڈر سے جنوری میں کویت کے امیر نے ہر کویتی شہری کو ایک ہزار دینار گرانٹ اور مفت غذائی کوپن دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم موجودہ پیشرفت سے اس اہم مغربی اتحادی میں پائی جانے والی کشیدگیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ کویت میں پہلے ہی کئی ہزار امریکی فوجی مقیم ہیں اور عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد پینٹاگون کی تجویز کے مطابق مزید ہزاروں امریکی فوجی وہاں تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عابد حسین

DW.COM