1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کویتی وزیر اعظم کا گیارہ سال بعد دورہ عراق

کویت کے وزیر اعظم عراق کے دورے پر آج بغداد پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ صدام حسین کی افواج کی جانب سے 1990 میں کویت پرحملے کے بعد کسی بھی کویتی وزیر اعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔

default

کویتی وزیر اعظم شیخ ناصر محمد الحمد الصباح

ٹی وی پر دیکھائے گئے فوٹیج کے مطابق بغداد ائیر پورٹ پرکویتی وزیر اعظم شیخ ناصر محمد الحمد الصباح کا استقبال ان کے عراقی ہم منصب نوری المالکی نے کیا۔

عراقی نائب وزیر خارجہ لبید عباوی کے مطابق کویتی وزیر اعظم کے دورہ عراق کا مقصد عراقی وزیر اعظم کو نئی حکومت کے قیام پر مبارک باد دینے کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی تصدیق کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا،’’ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر بات چیت کے نئے راستے کُھلیں گے۔‘‘ عباوی نے اس موقع پر مزید کہا کہ دراصل اس دورے سے یہ ضروری سیاسی پیغام بھی دیا جا رہا ہےکہ عراق مارچ میں ہونے والے عرب ممالک کی سمٹ کی تیاری کر رہا ہے۔

Kuwait Irak Jahrestag Einmarsch in Kuwait 1990

کویت میں عراقی جارحیت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ ہے

کویت اور عراق کے درمیان ایک طویل عرصے سے مختلف معاملات پر تناؤ موجود ہے۔ سن 1990 میں عراق نے کویت پر عراقی شہرسے تیل چوری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حملہ کر دیا تھا ۔ صدام حسین کی فوجی جارحیت کے بعد عراقی فوج کو کویت میں بین الاقوامی افواج کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں سات ماہ بعد آخر کار عراقی فوج کو نہ صرف پیچھے ہٹنا پڑا بلکہ حلیف ملک امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہو گئی ۔ عراق کو اس جارحیت کا خمیازہ آج بھی اپنے تیل کی فروخت سے پانچ فیصد آمدنی کویت کو دینے کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ کویت کی جانب سے وقتاﹰ فوقتاﹰ اس زمین کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا جاتا ہے، جس پر عراق نے حملے کے بعد سے اب تک قبضہ کر رکھا ہے۔

کویتی وزیر اعظم کے دورے سے دو دن قبل ہی کویت کے ساحلی محافظوں نے سرحد کی خلاف ورزی کرنے پر عراقی ماہی گیروں کی ایک کشتی پر فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں ایک ماہی گیر ہلاک ہو گیا تھا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM