1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کوہ ہمالیہ میں ٹرین پٹری، چین بھارت سے بہت آگے

کشمیر سمیت کوہ ہمالیہ میں مختلف علاقوں کو ٹرین رابطوں کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے کی کوششوں میں مصروف بھارت کے مقابلے میں چینی علاقوں میں انفراسٹرکچرکی ترقی بیجنگ کی مجموعی برتری کا باعث ہے۔

default

دونوں ہماسیہ ممالک کے درمیان ان کوششوں اور نتائج میں فرق انتہائی واضح ہے، جس کی نمایاں مثال دونوں ممالک کے درمیان ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع سرحدی علاقے ہیں۔ چین کے زیرکنٹرول علاقوں میں سڑکوں اور ٹرین رابطوں کا جال بچھ چکا ہے، جبکہ بھارت ابھی تک اس سلسلے میں کسی بڑی پیش رفت سے محروم ہے۔

تقریباً ربع صدی قبل بھارت کی طرف سے کشمیر سمیت ملک کے شمالی حصوں میں متعین فوجیوں تک رسد کی فراہمی کے لیے سپلائی روٹس کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا۔ اس سلسلے میں بھارتی زیر انتظام کشمیر تک 345 کلومیٹر طویل ٹرین پٹری بھی بچھائی جانی تھی۔ اس پروجیکٹ کے صرف چوتھائی حصہ پر ہی کام مکمل ہو سکا۔ مکمل کردہ حصے میں بھی مختلف مقامات پر بنائی گئی سرنگیں اب تک منہدم ہو چکی ہیں، جبکہ فنڈز کی کمی اور سلامتی کی مخدوش صورتحال جیسی وجوہات کی بناء پر دیگر علاقوں میں پٹریاں بچھانے کا کام آگے بڑھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض ماہرین ارضیات اور ریلوے حکام کو بھارتی حکومت کی جانب سے منظور کردہ ریلوے ٹریک کے روٹ پر بھی اعتراضات ہیں۔

مجوزہ ٹرین ٹریک وادی کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے انتہائی قریب سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ علاقہ ایک طرف تو پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے تناؤ کا شکار رہتا ہے، دوسری جانب سرحد کے آر پار فائرنگ کے واقعات بھی اس علاقے میں رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں بھی علاقے میں کسی ترقیاتی پروجیکٹ کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ پروجیکٹ کے آغاز کے ابتدائی دنوں میں یہاں کام کرنے والے متعدد انجینئرز اغوا کر لیے گیے تھے، جس کے بعد یہ پروجیکٹ تعطل کا شکار ہو گیا۔

Die höchste Zugstrecke der Welt

شنگھائی سے تبت تک ٹرین ٹریک بچھایا جا چکا ہے

دوسری جانب جولائی میں چین میں ایک بلٹ ٹرین کریش ہو جانے کے بعد حکومت کی طرف سے نئے ٹرین منصوبے مجمد کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم چین اس سے قبل شنگھائی اور تبت کو ملانے والی 1140 کلومیٹر طویل ٹرین پٹری بچھا چکا ہے۔ سطح سمندر سے پانچ ہزار میٹر سے زائد بلند انتہائی دشوار گزار علاقوں میں بنائی گئی، اس ٹرین پٹری کے راستے میں کئی مقامات ایسے بھی آتے ہیں، جہاں پورا سال برف جمی رہتی ہے۔

کوہ ہمالیہ کے چینی زیر انتظام علاقوں میں سٹرکوں کا بھی ایک وسیع جال بچھایا جا چکا ہے۔ ان تعمیراتی منصوبوں کی وجہ سے چینی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بہتری، اب وہاں چینی فوجی سرگرمیوں میں آسانی کا باعث بھی بن چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے سرحدی تنازعات کی موجودگی میں چین کی طرف سے اپنے زیر انتظام علاقوں میں انفراسٹرکچر میں نمایاں ترقی، خطے میں اس کی مجموعی برتری کا باعث بھی بن رہی ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM