1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کوہ پیماؤں کی چین کے راستے ماؤنٹ ایورسٹ روانگی

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو چین نے سیاحوں اور کوہ پیماؤں کے لئے کھول دیا ہے۔ بیجنگ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ تبت اور اِس بلند و بالامقام کو ایک عالمی سیاحتی مرکز میں تبدیل کردے۔

default

تبت میں بیجنگ حکومت کے خلاف ایک دبی دبی تحریک تو موجود ہے لیکن اب امکان ہے کہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کے بعد چین نے تبت اور ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے اِس مقام کو کھول دیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے تحت پانچ ہزار کوہ پیما تبت پہنچ چکے ہیں۔

موسم گرما کی آمد پر چین کے علاوہ، روس، فرانس، اسپین اور دوسرے ملکوں کے کوہ پیما ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی رواں سال کے موسم گرما میں کوشش کریں گے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کُل تین ماہ میں آسانی سے سر کی جا سکتی ہے۔ اِس بات کا اعلان چین تبت کوہ پیمائی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ژانگ منگ زنگ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

یہ کوہ پیما دنیا کی بلند ترین چوٹی کے ساتھ ساتھ دو دوسری بلند چوٹیوں کو بھی سر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پانچ ہزار سے زائد کوہ پیماؤں کا گروپ گزشتہ کئی برسوں میں انتہائی بڑا خیال کیا گیا ہے۔ کوہ پیماؤں کا یہ گروپ اب چوٹیوں کے بیس کیمپ پر پہنچ چکا ہے۔ راستے میں معاونت اور حفاظت کے لئے چیینی تبتی ایسوسی ایشن نے ساٹھ پیشہ ور اہلکاروں کو ہمہ وقت چوکس رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کا مقامی تبتی زبان میں نام قومولنگما (Qomolangma) ہے۔ اس کا مطلب دنیا کی چھت ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ دوسری دو چوٹیوں کے نام (Zhuoaoyou) اور (Xixiabangma) ہیں۔ یہ دنیا کی چھٹی اور 14ویں بلند ترین چوٹیاں ہیں۔ یہ بھی کوہ ہمالیہ میں موجود ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ اور دوسری چوٹیوں کے بلند ترین مقام تک پہنچنے کے راستے نیپال سے بھی ہیں۔ وہاں بھی کوہ پیما پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

چین تبت کوہ پیما ایسوسی ایشن نے ماؤنٹ ایورسٹ کے اترنے کے دشوار گزار شمالی راستے کی مرمت کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم کوہ پیمائی کے راستے میں پھیلائے جانے والے کوڑاکرکٹ کو بھی اکھٹا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اِس تنظیم کے کوپیمائی کے دو اسکول بھی کوہ پیماؤں کی تربیت کے لئے اپریل، مئی اور جون میں کھولے جاتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM