1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کوہِ نور چوری نہیں ہوا، مرضی سے برطانیہ کو دیا گیا‘، بھارت

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ کوہِ نور نامی ہیرا چوری نہیں کیا گیا تھا بلکہ مرضی سے سابق نو آبادیاتی حکمرانوں کو دیا گیا تھا۔ ایک شہری نے اس ہیرے کی واپسی کی درخواست دائر کی تھی۔

Riesendiamant Kohinoor

گزشتہ ایک سو پچاس برسوں سے برطانیہ کے شاہی خاندان کے جواہرات میں شامل ایک سو پانچ قیراط کا کوہِ نور دنیا کے بڑے سائز کے ہیروں میں شمار ہوتا ہے

پیر اٹھارہ اپریل کو حکومتِ بھارت کی جانب سے سپریم کورٹ میں یہ جواب داخل کروایا گیا کہ بھارت جس بڑے سائز کے مشہور ہیرے کی واپسی کے لیے گزشتہ کئی عشروں سے جدوجہد کرتا رہا ہے، اب اُسے ’کوہِ نور‘ نامی اس ہیرے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ ختم کر دینا چاہیے کیونکہ اسے چوری نہیں کیا گیا تھا بلکہ سابق نو آبادیاتی حکمرانوں کو تحفے کے طور پر دیا گیا تھا۔

ایک سو پانچ قیراط کا کوہِ نور دنیا کے بڑے سائز کے ہیروں میں شمار ہوتا ہے اور گزشتہ ایک سو پچاس برسوں سے برطانیہ کے شاہی خاندان کے جواہرات کا ایک حصہ ہے۔ یہ ہیرا اُس تاج میں جڑا ہوا ہے، جسے کبھی موجودہ ملکہ الزبتھ کی والدہ پہنا کرتی تھیں۔

Die Krone von Queen Mum

کوہِ نور موجودہ ملکہ الزبتھ کی والدہ کے اِس تاج میں لگا ہوا ہے، جسے 2002ء میں اُن کے انتقال پر اُن کے تابوت پر بھی رکھا گیا تھا

یہ ہیرا ایک طویل سفارتی جدوجہد کا مرکز و محور رہا ہے اور بھارت کے بہت سے شہری برطانیہ سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اپنے نوآبادیاتی ماضی کی تلافی کے طور پر اُسے یہ ہیرا بھارت کو واپس کر دینا چاہیے۔

تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پیر کو نئی دہلی میں بھارتی سپریم کورٹ کو بتایا کہ بھارت کو کوہِ نور پر اپنے دعوے سے دستبردار ہو جانا چاہیے کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ سن 1851ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے یہ ہیرا برطانوی حکمرانوں کو تحفے کے طور پر دیا تھا۔ اس ہیرے کی واپسی کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک درخواست کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل رنجیت کمار نے عدالت کو بتایا کہ ’اس ہیرے کو نہ تو چرایا گیا تھا اور نہ ہی زبردستی چھینا گیا تھا‘۔

کوہِ نور کو آج کل ’ٹاور آف لندن‘ میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ اسے موجودہ ملکہ الزبتھ کی والدہ نے، جن کا نام بھی الزبتھ ہی تھا، سن 1937ء میں اپنے شوہر جارج ششم کی تاج پوشی کے موقع پر پہنا تھا جبکہ بعد ازاں اسے 2002ء میں اُن (الزبتھ) کے تابوت پر بھی رکھا گیا تھا۔

حال ہی میں اپنے شوہر پرنس ولیم کے ساتھ بھارت کا دورہ کرنے والی ڈچز آف کیمبرج برطانوی ملکہ بننے کی صورت میں سرکاری تقریبات کے دوران اس ہیرے کا حامل تاج پہنا کریں گی۔ تاجِ برطانیہ کی جانشینی کے سلسلے میں اپنے والد چارلس کے بعد پرنس ولیم آج کل دوسرے نمبر پر ہیں۔

واضح رہے کہ سن 2010ء میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنےدورہٴ بھارت کے موقع پر یہ کہا تھا کہ یہ ہیرا لندن ہی میں رہے گا۔ تب اُنہوں نے کہا تھا: ’’اس طرح کے سوالات کے سلسلے میں عموماً ہوتا یہ ہے کہ جب آپ ایک چیز کے جواب میں ہاں کہتے ہیں تو آپ اچانک دیکھیں گے کہ پورا برٹش میوزیم ہی خالی ہو گیا ہے۔‘‘

سپریم کورٹ میں یہ درخواست ایک شہری نفیس احمد صدیقی کی طرف سے دائر کی گئی تھی، جس میں بہت سے دیگر بھارتی شہریوں کے نقطہٴ نظر کی تائید کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کوہِ نور اُن بہت سے نوادرات میں سے ایک ہے، جو برطانوی حکمران اپنے نو آبادیاتی دور کے دوران یہاں سے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق سپریم کورٹ میں حکومتی جواب پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے نفیس احمد صدیقی نے کہا: ’’برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان کو لُوٹا تھا اور اب ہمارے دعووں کی تائید نہ کرتے ہوئے حکومت ایک غلطی کی مرتکب ہو رہی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سرحد پار پاکستان میں بھی مختلف اوقات میں شہریوں کی جانب سے اسی طرح کی درخواستیں عدالتوں میں دائر کی جاتی رہی ہیں، جن میں یہی موقف اختیار کرتے ہوئے برطانیہ سے یہ ہیرا واپس لانے کے لیے کہا جاتا رہا ہے۔