1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوہاٹ کے قریب مسافر کوچ میں دھماکہ، 18 افراد ہلاک

صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کوہاٹ کے قریب مسافر کوچ میں ہونے والے دھماکے میں 18 افراد ہلاک جبکہ 16 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

default

پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکہ سیکورٹی چیک پوسٹ سے کچھ فاصلے پر واقع جوزرہ کے مقام پر ہوا ہے۔ بم ڈسپوزل سکوا‍ڈ کے مطابق گاڑی میں چھ سے 10 کلوگرام بارودی مواد رکھا کیا گیا تھا دھماکے کی وجہ سے کوچ کے قریب سے گزرنے والی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اس میں سوار سولہ افراد شدید زخمی ہیں زخمیوں میں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، جنہیں بہتر علاج کی غرض سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال شفٹ کیا گیا ہے۔

موقع پر پہنچنے والےکوہاٹ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل مسعود خان بنگش کا کہنا ہے، " یہ ابھی کنفرم ہوا ہے کہ اس میں بارود استعمال ہوا ہے یہ خودکش حملہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ سلنڈر دھماکہ ہے اس میں ہائی پرفائل کا بارود استعمال کیا گیا ہے اور اب ہم تفتیش کررہے ہیں اس گاڑی کے ڈرائیور کا شناختی کارڈ بھی ملا ہے اور یہ بھی پتہ چلاہے کہ گاڑی کس اڈے سے نکلی تھی۔"

Anschlag auf den Presse-Klub von Peschawar

کئی شدید زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔

دوسرے جانب پولیس نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لیکر تفتیش شروع کردی جبکہ علاقے میں مشکوک افراد کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع قبائلی علاقوں کی سرحد پرواقع ہونے کی وجہ سیکورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں۔ جہاں ان اضلاع میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں وہاں یہ علاقے فرقہ ورانہ فسادات کی زد میں بھی رہتے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخارحسین نے سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، "جس صورتحال سے ہم گذر رہے ہیں تو ہر لمحے ہمیں خطرہ رہتا ہے اور چونکہ دہشت گرد موجود ہیں تو دہشت گردی بھی ہوگی اور جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور بیخ کنی نہیں ہوتی تو یہ ہو نہیں سکتا کہ دہشت گردی کے امکان کو رد کیا جائے۔ اب بھی اگر ہم یہ کہیں کہ ہم نے مکمل انتظامات کر رکھیں ہیں تب بھی یہ خطرہ ہے کہ کسی بھی وقت کوئی بھی واقعہ پیش آسکتا ہے لیکن ہم اپنے اقدامات کو اسی نوعیت پر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ہم کسی بھی غفلت کے مرتکب نہیں ہوسکتے۔ "

صوبائی حکومت نے دارالحکومت پشاور سمیت ملاکنڈ میں سکیورٹی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں اہم رد و بدل کیا ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں بم دہماکوں اور خودکش حملوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ملحقہ قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ قبائلی علاقے وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہیں جہاں صوبائی حکومت مداخلت نہیں کرسکتی۔

رپورٹ: فریداللہ خان پشاور

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس