1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوہاٹ میں کار بم دھماکہ، سات افراد ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے شہر کوہاٹ میں اتوار کی صبح ایک کار بم دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اس شہر میں پیش آنے والا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

default

اس سے قبل گزشتہ روز کوہاٹ ہی میں ایک دوہرے خودکش بم دھماکے میں 41 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی حکام کے مطابق تازہ حملے کا ہدف ایک پولیس سٹیشن تھا۔

سٹی پولیس افسر دلاور خان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ خودکش حملہ آور ایک کار میں سوار ہو کر مقامی پولیس سٹیشن کی جانب بڑھ رہے تھا اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے روکنے کی کوشش پر اس نے دھماکے سے کار تباہ کر دی۔’’حملہ آور نے پولیس سٹیشن کے عقبی حصے میں دھماکہ خیز مواد سے بھری کار تباہ کر دی۔ یہ حملہ ممکنہ طور پر قبائلی علاقوں میں فوج کی جانب سے جاری آپریشن کا ردعمل ہوسکتا ہے۔‘‘

Anschläge in Pakistan

کوہاٹ میں ایک روز قبل ہونے والے ایک دوہرے بم دھماکے میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

دلاور خان کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے تاہم زخمی ہونے والے افراد میں چھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ضلعی پولیس افسر عبداللہ جان نے اس تازہ حملے میں 26 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق اس حملے میں تقریباً 200 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا اور حملے کے بعد جائے وقوعہ پر آٹھ فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔

واقعے میں معمولی زخمی ہونے والے ایک پہرے دار سعید خان نے ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے بات چیت میں بتایا: ’’پولیس سٹیشن کی جانب بڑھنے والے اس کار سوار کو پولیس اہلکاروں نے رکنے کا اشارہ کیا، تاہم اس نے اشارہ نظر انداز کر کے اپنی کار کی رفتار بڑھا دی۔ مجھے خطرے کا احساس ہوا اور میں نے اس جگہ سے دور جانے کے لئے بھاگنا شروع کر دیا۔ ایسے میں مجھے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی اور اسی دوران اچانک سکول کی بیرونی دیوار مجھ پر گر گئی۔ مگر حملے کے بعد بھی میں اپنے ہوش و حواس میں رہا۔‘‘

پاکستانی فوج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں آپریشن کی قوت میں اضافے کے ساتھ ساتھ شمالی مغربی پاکستان سمیت ملک کے متعدد علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر/خبر رساں ادارے

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM