1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوہاٹ میں پولیس پر حملہ، چار اہلکار ہلاک

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس کی ایک گشتی ٹیم پر مسلح حملے میں چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔ یہ سکیورٹی اہلکار گشت کے بعد واپس لوٹ رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور سے اتوار اکیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق کوہاٹ پولیس کے ایک اہلکار عارف خان نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی اس ٹیم پر یہ خونریز حملہ آج اتوار کے روز کیا گیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور ان پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کے بعد فرار ہو گئے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ عارف خان کے مطابق پشاور سے 90 کلومیٹر یا 56 میل جنوب کی طرف واقع ضلع کوہاٹ میں ان اہلکاروں کو نشانہ اس وقت بنایا گیا جب وہ ایک مقامی گشتی ڈیوٹی کے بعد واپس تھانے لوٹ رہے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں علاقے کی پولیس کا مقامی سربراہ، اس کا ایک نائب اور دو کانسٹیبل شامل ہیں۔ فوری طور پر اس حملے کی ذمے داری کسی مسلح گروپ نے قبول نہیں کی۔

خیبر پختونخوا میں اسکول اور گھروں پر دستی بموں سے حملے

چارسدہ میں دوہرا  خودکش حملہ، ایف سی کا ایک افسر ہلاک

پشاور میں خودکش دھماکا، متعدد ہلاک و زخمی

اس قبل خیبر پختونخوا ہی میں کل ہفتہ بیس مئی کے روز شب قدر کے قصبے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک اسکول اور کم از کم چار گھروں پر دستی بموں سے متعدد حملے بھی کیے تھے، جن کے نتیجے میں 15 افراد زخمی ہو گئے تھے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

پاکستان میں عسکریت پسندوں کی ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کا ایک باغی گروہ جماعت الاحرار افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب واقع پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کافی فعال ہے اور اب تک کیے جانے والے بہت سے دہشت گردانہ حملوں میں سے متعدد ہلاکت خیز کارروائیوں کی ذمے د اری قبول بھی کر چکا ہے۔ یہ بات تاہم واضح نہیں کہ کوہاٹ میں آج کے حملے میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت بھی اسی شدت پسند گروپ کی کارروائی ہے۔

DW.COM