1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’کوکا پتّے‘: پیرو نے کولمبیا کو پیداوار میں پیچھے چھوڑ دیا

لاطینی امریکی ملک پیرو کوکین کی تیاری میں استعمال ہونے والے ’کوکا پتّوں‘ کی پیداوار میں دنیا کا سر فہرست ملک بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب کولمبیا دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

default

اقوام متحدہ کے انسداد منشیات اور جرائم کے محکمے( UNODC) کے مطابق2010ء کے دوران پیرو میں کوکا پتّوں کی کاشت 61,200 ہیکٹر پر کی گئی، جو 2009ء کے مقابلے میں دو فیصد زیادہ ہے۔ اس حوالے سے طویل عرصے سے سر فہرست رہنے والے ملک کولمبیا میں کوکا پتّوں کی کاشت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

پیرو میں منشیات کی روک تھام کے ادارے کے ایک اہلکار روبن ورگاس نے بتایا کہ کوکا کی کاشتکاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کے ناکافی اقدامات ہیں۔

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں کوکین کے پیداوار کے حوالے سے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں، تاہم ذرائع نے بتایا ہےکہ ایک اندازے کے مطابق2010ء کے دوران پیرو میں330 ٹن کوکین تیار کی گئی جبکہ کولمبیا میں تیار کی جانے والی کوکین 350 ٹن تھی۔ تاہم پیرو کے سرکاری اہلکار کہتے ہیں کہ 2010ء میں

Colombianische Aktionen gegen Koka-Pflanzungen

کولمبیا میں کوکا پتوں کی کاشت میں نمایاں کمی آئی ہے

ان کے ملک میں صرف 30 ٹن کوکین تیار کی گئی ہے۔ کوکاپتّوں کی کاشتکاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پیرو کےان بندرگاہی شہروں میں قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، جہاں سے کوکین دنیا کے دیگر ملکوں میں بھیجی جاتی ہے۔

پیرو کے رخصت ہونے والے صدر آلان گارسیا نے کہا کو پیرو کو منشیات کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے حوالے سے امریکہ کی جانب سے کولمبیا کے مقابلے میں بہت کم امداد دی گئی تھی۔’’میں نے ایک مرتبہ صدر باراک اوباما کو بتایا تھا کہ یہ سب ان کی غلطی ہے کہ منشیات کی روک تھام کی حوالے سے انہوں نے ساری رقم کولمبیا کو ہی دے دی۔‘‘

پیرو کے نومنتخب صدر اولانتا ہومالا کے ایک مشیر ہوگو کابیایسس نےکہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کو سلامتی کے لیے صرف ایک خطرہ نہیں بلکہ اسے جنگ سمجھنا چاہیے۔ اس حوالے سے ایک جامع پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

میکسیکو میں 2006ء سے منشیات فروش گروہوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اس دوران جرائم پیشہ گروپوں کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے دوران 37 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ روبن ورگاس کہتے ہیں کہ اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ آخر پیرو میں منشیات فروش گروپ کیوں قتل و غارت گری میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کے بقول اس کا جواب بہت سادہ سے ہے کہ لیما حکومت نے ابھی تک ان کے خلاف کوئی مؤثر آپریشن شروع ہو نہیں کیا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس