1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کوپن ہیگن کانفرنس، ناکامی کے بڑھتے خدشات

ماحولیاتی تبدیلیوں پرکوپن ہیگن میں جاری اقوام متحدہ کے اجلاس اور مذاکرات آج دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود اتفاق رائے کے امکانات کم نظر آرہے ہیں۔

default

ڈنمارک کی وزیر ماحولیات Connie Hedegaard کا کہنا ہے کہ ابھی بھی تحفظ ماحول کے سلسلے میں کئی اہم مسائل کا سامنا ہے، جن کا حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔

Dänemark Klimakonferenz Demo

گرین پیس سمیت کئی تنظیمیں عالمی رہنماؤں سے کسی اہم معاہدے پر اتفاق کا مطالبہ کر رہی ہیں

مسائل دراصل یہ ہیں کہ چین اور امریکہ جیسے بڑے ممالک سبز مکانی گیسوں میں واضح کمی کے بجائے حیلے بہانوں سے کام لے رہے ہیں۔ انہیں مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے گزشتہ روز 48 وزرائے ماحولیات ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جمع ہوئے۔

بھارت کے وزیر ماحولیات Jairam Ramesh کا کہنا تھا کہ اجلاس میں شریک ممالک کوایک دوسرے پراعتماد کرنا چاہیے۔

’’اگر ہم ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور اختلافات میں کمی لائیں ، تو میں امید کرتا ہوں کہ ہم کسی متفقہ معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے کے لئے ہمیں ہمت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ ہم ابھی بھی ان مسائل کا منصفانہ حل تلاش کرلیں گے ۔‘‘

اقوام متحدہ کے مرکزی ماحولیاتی مذاکرات کار ایوو ڈی بوئر کہتے ہیں، چین کا امریکہ سے مطالبہ ہے کہ وہ سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لئے زیادہ اقدامات کرے جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ تحفظ ماحول کے لئے چین کی کوشیشیں ناکافی ہیں۔ بوئر نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں سبھی ممالک ایک دوسرے سے زیادہ اقدامات کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

ماحولیاتی تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس کے سربراہ Martin Kaiser کا کہنا ہے کہ کوپن ہیگن اجلاس کی کامیابی کا انحصار امریکہ اور چین پر ہے، کیونکہ یہ دونوں صنعتی ممالک ہی دنیا بھر میں آلودگی پیدا کرنے والی گیسوں کے اخراج میں سب سے آگے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک اس ذمہ داری سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ سبز مکانی گیسوں میں کمی ایک بین الااقوامی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر دوسرے ممالک تحفظ ماحول کے لئے مزید اقدامات نہیں کرتے تو یورپی ممالک بھی اس ضمن میں آگے نہیں بڑھیں گے۔

رپورٹ : امتیاز احمد

ادارت : کشور مصطفیٰ