1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کوپن ہیگن کانفرنس سے وابستہ توقعات

یورپی یونین، امریکہ، چین اور بھارت سمیت کئی ملکوں نے وعدے کئے ہیں کہ وہ 2020 تک کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لئے بھر پور کوششیں کریں گے۔ لیکن ان کوششوں کے باوجود عالمی حدت میں کوئی بڑی کمی نہیں ہوگی۔

default

پربتوں کے جھرنے، آبشاروں کے دھارے، دریا وں کے دلفریب کنارے، ساحل کے خوب صورت نظارے، برف پوش وادیوں کی رعنائی، قوس وقزح کی انگڑائی، روح میں رس گھولتے رنگ وبرنگی پھول، میدانی علاقوں کی بارش اورصحرا کی دھول ان سب ہی کو خطرہ ہے اس بلا سے جسے عالمی حدت کہا جاتا ہے۔

اس بلا پر قابو پانے کے لئے دنیا کے مختلف ممالک کے رہنما گزشتہ سال دسمبر کے ماہ میں کوپن ہیگن میں سرجوڑ کے بیٹھے تھے تا کہ کسی نہ کسی طرح عالمی حدت کی اس عفریت سے مقابلہ کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا جائے لیکن ذی شعور انسانوں کا یہ اجتماع خوب صورت الفاظوں کے تانے بانے بن کر ایک ایسے معاہدے پر ختم ہوگیا جس کی پاسداری کے لئے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ اس اجتماع نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ۳۱ جنوری تک تمام ممالک اقوام متحدہ کو اس بات سے آگاہ کریں گے کہ ۲۰۲۰ تک عالمی حدت کا باعث بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج میں وہ کتنی کمی کریں گے۔

دنیا کے کئی ممالک نے مشروط وعدوں کی ایک فہرست اقوام متحدہ کو بھیج دی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ۲۰۲۰ تک کاربن کے اخراج میں کمی کریں گے۔

چین کو22 فیصد کاربن کے اخراج کا زمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں کئی ماحولیاتی تنظیموں نے بیجنگ پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔ لیکن چین کی طرف سے اقوام متحدہ کو بھیجے گئے ایک خط میں اس بات کا وعدہ کیا گیا ہے کہ 2005 میں چین کی کاربن کے اخراج کی جو سطح تھی اس کے مقابلے میں وہ 2020 تک 40 سے 45 فیصد کی کمی کرے گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ بھی ۲۰۰۵ کے مقابلے میں 2020 تک 17 فیصد کمی کرے گا۔ یہ شرح ۱۹۹۰ کے مقابلے میں چار فیصد کم ہے اوراگر امریکی سینٹ میں ڈیموکریٹس اکثریت کھو دیتے ہیں تو اس سترہ فیصد کی کمی کا حصول بھی مشکل ہوجائے گا۔

Kraftwerk Schwarze Pumpe Pilot-Projekt eines Kohlendioxid(CO2)-freien Braunkohlekraftwerks

ماحول دوست اداروں کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں کمی کے لئے گئے وعدے ناکافی ہیں

یورپی یونین 1990 میں کاربن کی سطح کے مقابلے2020 تک 20 فیصد یکطرفہ کمی کرے گی۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اگر دوسری اقوام کاربن کے اخراج میں مزید کمی کرتے ہیں تو یورپی یونین بھی اس کمی کو 30 فیصد تک لے جائے گی۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ 2020 تک کاربن کے اخراج میں 20 سے 25 کمی کو ممکن بنائے گا۔

دنیا کے بڑے اور چھوٹے ممالک کی تمام یقین دہانیوں کے باوجود ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ کمی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ کئی ممالک کی طرف سے کئے گئے ان وعدوں پرعمل درآمد کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ ان وعدوں پر عملدرآمد کرانے کا کوئی قانونی طریقہ موجود نہیں ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگران وعدوں کی پاسداری کر بھی لی جائے تو بھی عالمی حدت میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوگی بلکہ درجہ حرارت میں مزید تین اعشاریہ پانچ فیصد کا اضاضہ ہوجائے گا جس سے ایک طرف دنیا کے کچھ حصوں میں گلشیئر پگھلیں گے تو دوسری طرف کئی علاقوں میں قحط سالی کی صورتحال ہوگی۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM