1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوپن ہیگن ڈیل: یورپی رہنماؤں کا ردعمل

کوپن ہیگن کانفرنس کے دوران طے پانے والے معاہدے پر یورپی رہنماؤں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لئے تجویز کئے گئے، ان کے اہداف دیگر ممالک کے ساتھ مطابقت نہ پا سکے۔

default

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے تسلیم کیا ہے کہ کوپن ہیگن کانفرنس کے دوران مذاکرات خاصی پیچیدگی کے حامل تھے۔ انہوں نے کہا : ’’مذاکرات کافی مشکل رہے اور میں یہ کھلے الفاظ میں کہنا چاہتی ہوں کہ اس کانفرنس کے نتائج کو میں ملی جلی کیفیات کے ساتھ محسوس کر رہی ہوں۔ اگرچہ میرے لئے اس کانفرنس کا نتیجہ تسلیم کرنا کافی مشکل تھا لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اگر یہ عمل یہیں روک دیا جائے گا تو ہم کئی سال پیچھے چلے جائیں گے۔ اس لئے میں کہتی ہوں کہ ہاں ہم بھی اس معاہدے میں شامل ہیں تاکہ تحفظ ماحولیات کو ممکن بنانے کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘‘

یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک سویڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائن فیلڈ نے کہا ہے کہ امریکہ اور دیگر چار ممالک کی طرف سے تجویز کیا گیا معاہدہ مکمل نہیں ہے۔ کوپن ہیگن کانفرنس کے نتائج کے بارے میں انہوں نے مزید کہا کہ عالمی خطرےسے نمٹنے کے لئے یہ عالمی جواب نہیں ہے۔

US-Präsident Obama UN Klimagipfel Kopenhagen Pressekonferenz

امریکی صدر باراک اوباما

یورپی کمیشن کے صدر یوزے مانویل باروسو کے مطابق اس معاہدے کا قانونی لحاظ سے لازمی نہ ہونا پریشانی کا باعث ہے۔ باروسو کے مطابق انہوں نے اس معاہدے سے اس لئے اتفاق کیا ہے کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ تحفظ ماحولیات کے لئے کی جانے والی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچانا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم عمل کے سلسلے میں اٹھائے جانے والا پہلا قدم ہے۔

دریں اثناء کئی ترقی پذیر ممالک نے پانچ ممالک کے گروپ کی طرف سے تجویز کئے گئے ماحولیاتی معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ، عالمی درجہ حررات میں اضافہ کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کا بلیو پرنٹ نہیں ہوسکتا۔

Ban Ki-moon auf Kopenhagener Klimagipfel

اقوام متحدہ کے سربارہ بان کی مون

جمعہ کوکوپن ہیگن کانفرنس کے دوران امریکہ، چین، جنوبی افریقہ، برازیل اور بھارت نے مشترکہ طور پر ایک ایسا معاہدہ تجویز کیا ، جیسےانہی ممالک نے عالمی درجہ حررات میں اضافے کو روکنے کے لئے ایک بامعنی معاہدہ قرار دیا۔ تاہم یہ معاہدہ کانفرنس کے شرکا ء کی توقعات کے مطابق نہیں رہا۔

اس معاہدے میں رواں صدی کے دوران عالمی درجہ حررات میں اضافے کو دو ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کا عہد تو کیا گیا ہے تاہم اس عہد کی تکمیل قانونی طور پر ضرروی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ امیر ترین ممالک کی طرف سے سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لئے کوئی موثر اہداف بھی مقرر نہیں کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ جب تک کوپن ہیگن کانفرنس میں شامل تمام ایک سو ترانوے ممالک اس معاہدے پر دستخط نہیں کرتے، تب تک یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے سرکاری معاہدے کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM