1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوپن ہیگن ڈیل: چین اور انڈونیشیا کے تعریفی کلمات

کوپن ہیگن کانفرنس کے اختتام پر ہونے والی ڈیل جہاں تنقید کی زد میں ہے وہیں جرمنی سمیت کئی دوسرے ملک بشمول چین، انڈونیشیا اور آسٹریلیا اور دیگر کئی ممالک اس ڈیل کے دفاع اور تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔

default

اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون

کوپن ہیگن میں ماحولیاتی کانفرنس کے اختتامی روز ہونے والی ڈیل کے حوالے سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا ایک بیان جرمن اخبار بلڈ کے اتوار کے شمارے میں شائع ہوا ۔ جس میں میرکل نے کہا کہ نئے عالمی موسمیاتی آرڈر کی شروعات اِس ڈیل سے ہوئی ہے اور یہ ڈیل انتہائی اہم ہے۔ میرکل کے خیال میں اس ڈیل پر تنقید کرنے والے ماحول دوست نہیں ہیں بلکہ وہ مستقبل کے عمل کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کی خواہشمند ہیں۔

میرکل کے خیال میں کوپن ہیگن میں پیدا شدہ حالات میں یہ ایک بہتر کوشش تھی اور اِس پر مستقبل کو تعمیر کرنا مقصود ہے۔ اِسی تناظر میں امریکی صدر اوباما نے واشنگٹن میں کہا تھا : ’’ تاریخ میں پہلی بار دنیا کی بڑی اقتصادیات نے اکھٹے ہو کر یہ ذمہ داری قبول کی ہے کہ ماحول کو درپیش خطرے سے نمٹنے کے لئے عملی اقدام کئے جائیں۔ مشکل اور پیچیدہ مذاکرت کے بعد جو پیش رفت سامنے آئی ہے وہ مستقبل میں بین الاقوامی اقدامات کی بنیاد بنےگی۔‘‘

Merkel bei Regierungserklärung zum Kopenhagen

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نےکوپن ہیگن میں طے پانی والی ڈیل کا دفاع کیا ہے

کوپن ہیگن ڈیل کے لئے افریقی ملک بھی مثبت سوچ کے حامل تھے۔ الجزائر کے وزیر ماحولیات شریف رحمانی کے مطابق: ’’افریقی براعظم کے لئے کوپن ہیگن میں ایک فیصلہ اہم ہے، اُس فیصلے کا وہ حصہ بننے کی خواہش رکھتا ہے نا کہ انگلیاں اٹھانےکی۔ افریقہ تعاون کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘

دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ Yang Jiechi نے کوپن ہیگن ڈیل کو ایک نئے آغاز سے تعبیر کیا ہے جب کہ انڈونیشیا کے صدر نے سمجھوتے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ چین نے ترقی پذیر ملکوں کے لئے تیس ارب ڈالر بطور امداد دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس ڈیل میں صنعتی ملکوں سے سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کو چیک کرنے کا طریقہٴ کار بھی واضح کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ کے مطابق ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک گیسوں کے اخراج کے حوالے سے مختلف تاریخی حوالہ ، سطح اور ذمہ داریاں رکھتے ہیں، اس لئے اُن پر ذمہ داریوں اور پابندیوں کی حدود بھی مختلف ہونی ضروری ہے۔

US-Präsident Obama UN Klimagipfel Kopenhagen Pressekonferenz

امریکی صدر باراک اوباما نے کوپن ہیگن ڈیل کو ایک بنیاد قرار دیا ہے

چینی وزیر خارجہ نے بھی کوپن وہیگن ڈیل کو منزل نہیں بلکہ ابتدا قرار دیا ہے۔ انڈونیشی صدر سوسیلو بامبانگ یدھویونو کی ویب ساسٹ پر کوپن ہیگن ڈیل بابت اظہار مسرت کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں کے پیینل نے بھی کوپن ہیگن ڈیل کو ایک عمل کے آغاز کا نقطہ قرار دیا ہے۔

دوسری طرف ماحول دوست سرگرم کارکنوں اور غیر سرکاری تنظیموں نے اِس ڈیل کو ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔ اِس سلسلے میں مزید کارروائی اور آگے بڑھنے کے سلسلے میں جرمن شہر بون میں اگلی سال جون میں وزارتی سطح کا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اُس اجلاس کو میکسیکو سٹی میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا پلیٹ فارم خیال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کوپن ہیگن ڈیل پر مزید مفاہمت اب میکسیکو سٹی کی عالمی کانفرنس میں سامنے آئے گی۔ یہ کانفرنس اگلے سال کے آخر میں شیڈول کی گئی ہے۔

یہ ڈیل امریکی صدر اوباما نے چین اور دوسری اقتصادی طاقتوں بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کے ساتھ مشاورت کے بعد مکمل کی تھی۔ کوپن ہیگن معاہدہ سردست اقوام کے لئے لازم نہیں ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM