1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کوپن ہیگن میں حکومتی موقف پر بھارتی اپوزیشن برہم

ماحولیاتی تبدیلیوں پرکوپن ہیگن کانفرنس میں ہونے والے معاہدے پر بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یا راجیہ سبھا میں بھارتی حکومت کوحزب اختلاف کی جماعتوں کے شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

default

امریکی وزیر خارجہ کلنٹن بھارتی وزیر ماحولیات رمیش کے ہمراہ

ایوان میں اس موضوع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائد ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت اس کانفرنس میں ملکی مفادات کا تحفظ کرنے ناکام رہی ہے۔ ’’اس میں جو معاہدہ ہوا ہے، اس سے ملک میں گرین گیسوں کی تخفیف کے منصوبوں کی بین الاقوامی نگرانی کا دروازہ کھل جائے گا۔‘‘

اپوزیشن نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس کانفرنس کے ذریعہ کیوٹوپروٹوکول اور بالی ایکشن پلان جیسے معاہدوں کو بے اثر کردیاگیا ہے، جو غریب اور ترقی پزیر ملکوں کے مفاد میں تھے۔جیٹلی نے پارلیمان کے باہر ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے ہر مرحلہ میں ملک کے مفادات سے سودا کیا گیا۔ بایاں بازوں نیز حکومت کی حلیف جماعتوں نے بھی اس معاملہ میں حکومت کو سخت نکتہ چینی کا ہدف بنایا۔

انہوں نے کوپن ہیگن معاہدے کو افسوسناک اور ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے والا قراردیا۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی یا سی پی ایم کے رکن سیتارام یچوری نے کہا کہ بھارت نے کیوٹو پروٹوکول سے کنارہ کش ہونے کا دروازہ کھول دیا۔ تاہم ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیر ماحولیات جئے رام رمیش نے ایوان کوبتایا کہ ملک کے مفاد سے کوئی سودا نہیں کیا گیا۔ انہوں نےکہا کہ معاہدے میں کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کی تخفیف کے لئے ترقی پزیر ملکوں کو طویل وقت دیا گیا ہے۔

Wahlen in Indien 2009

بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس معاہدے پر شدید اعتراضات ہیں

مگر انہوں نے اعتراف کیا کہ بھارت نے کانفرنس میں کچھ حد تک لچکدار رویہ اختیار کیا، چونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کانفرنس کی ناکامی کا الزام اس پر آئے۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ایک پہلو پر بھارت کو نرم ہونا پڑا کہ بھارت کو اب اپنے تخفیف کے منصوبوں پر عملدرآمد کی معلومات دینے کے بجائے اس پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنوینشن برائے کلائمیٹ چینج سے مشاورت کرنا پڑے گی۔

بی جے پی نے کہا کہ حکومت نے کانفرنس سے قبل یہ وعدہ کیا تھا کہ ہرحال میں کوئی بین الاقوامی پابندی قبول نہیں کرے گی۔جیٹلی نے کہا کہ حکومت نے اس عہد سے انحراف کرتے ہوئے، بھارت میں بین الاقوامی نگرانی کا راستہ ہموار کردیا ہے، جبکہ یہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ کی زبان بڑی مبہم اور ذومعنیٰ ہے۔ اس سے ہر کوئی اپنی مرضی کی تشریح کر سکتا ہے۔

حکومت نے ایوان کو بتایا کے ترقی یافتہ ملکوں نے ماحولیاتی کثافت کو کم کرنے اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کو روکنےکے منصوبوں کے لئے ترقی پزیر ملکوں کی امداد کے لئے ’’کوپین ہیگن گرین کلائمیٹ فنڈ‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے، جس کے لئے وہ کئی ارب امریکی ڈالر فراہم کریں گے۔ اس پر جیٹلی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’یہ محض ایک دھوکہ ہے اور دولتمند ممالک اس کے ذریعہ غریب ملکوں کو جھانسہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ اس سلسلہ میں مخلص نہیں ہیں۔‘‘

اپوزیشن نے کہا کہ حکومت کوپن ہیگن معاہدے کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے لیکن یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔ جیٹلی نے کہا :’’بھارتی حکومت کو اس بات کا خوف ستائے جا رہا تھاکہ کہیں اس پر کانفرنس کی ناکامی کا الزام نہ آجائے۔ اس اندیشہ کے باعث وہ ملک کے مفادات کا تحفط میں ناکام رہی۔‘‘

ایوان میں بحث سے قبل بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے روایت کے مطابق صدرجمہوریہ پرتھیبھا پاٹل سے راشٹرپتی بھون میں ملاقات کی اور انہیں کوپن ہیگن کانفرنس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

رپورٹ : افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM