1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوپن ہیگن ماحولیاتی کانفرنس کا آغاز

تحفظ ماحول کے موضوع پر عالمی سربراہی کانفرنس ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں آج سے شروع ہو رہی ہے۔ یہ کانفرنس اٹھارہ دسمبر تک جاری رہے گی اور اس میں امریکی صدر باراک اوباما سمیت ایک سو سے زائد عالمی رہنما شریک ہوں گے۔

default

کوپن ہیگن کا پارلیمنٹ اسکوائر

سب سے بڑی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے لئے ابتدائی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں۔ پیر سے شروع ہونے والی کانفرنس کا اختتامی دن اٹھارہ دسمبر ہے۔

اِس کانفرنس کے حوالے سے عالمی سطح پر شکوک کے علاوہ پرامید اور حوصلہ افزاء اشارے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ڈنمارک کے ماہرین ماحولیات کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی پر امید ہیں کہ اٹھارہ دسمبر کو ایک تاریخی معاہدے پر شریک ملکوں کے لیڈران پہنچ جائیں گے۔

کوپن ہیگن میں تمام انتظامی امور حتمی شکل پا چکے ہیں۔ کانفرنس ہال کی جانب والے راستوں کو مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے بینروں سے سجا دیا گیا ہے، جن پر ہمارا ماحول ہمارا مستقبل، آپ کا فیصلہ

Bundeskanzlerin Angela Merkel

جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی کوپن ہیگن کانفرنس کے شرکاء میں سے ایک ہیں

جیسے سلوگن لکھے گئے ہیں۔

کانفرنس کے مرکزی اور دوسرے مقامات پر ہونے والی مختلف اجلاسوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر دس ہزار افراد شریک ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی ادارے UNFCCC کی میزبانی میں ہونے والی اِس عالمی کلائمیٹ کانفرنس میں ایک سو بانوے ملکوں کے نمائندے شریک ہو رہے ہیں۔ اِس کانفرنس کو سن اُنیس سو بانوے کی ریوسمٹ کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈنمارک کانفرنس میں ایک سو ملکوں کے سربراہان پہنچ سکتے ہیں۔ شریک ہونے والوں میں امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے نام بھی شامل ہیں۔

ڈنمارک میں سیکیورٹی کے معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ کانفرنس کے مرکز بیلا سینٹر تک رسائی کے لئے شرکاء کے ناموں کی فہرست مکمل کر لی گئی ہے۔ ڈنمارک پولیس کے چھ ہزار اہلکاروں کو سیکیورٹی امور سونپے گئے ہیں۔ وہ مختلف پوائنٹس پر ہمہ وقت چوکس رہیں گے۔ بتیس سو کے قریب اضافی دستوں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں وہ بھی پہلے سے ڈیوٹی پر تعینات دستوں میں شامل ہو جائیں گے۔

کوپن ہیگن کانفرنس سے قبل یورپ میں ہزاروں افراد نے عالمی رہنماؤں کی توجہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی جانب مبذول کرانے کی خاطر صدائے احتجاج بلند کی۔ گلاسگو، لندن، ڈبلن، بیلفاسٹ، پیرس، برسلز اور برلن سمیت کئی دوسرے شہروں میں ماحول دوستوں نے ایسے مظاہروں میں حصہ لیا۔ یہ لوگ ریلیوں میں ماحول سے متعلق نعروں پر مبنی بینر لئے ہوئے تھے اور حکومتوں سے ماحول سے متعلق ترجیحات تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یورپ کے ایک دوسرے ملک بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں پندرہ ہزار افراد نے ماحول دوست سبز رنگ کے پہناوں کے ساتھ سڑکوں پر مارچ کیا۔ یہ لوگ یورپی کمیشن کے دفتر کے گرد زنجیر کی صورت میں بھی کھڑے رہے۔ تمام مقامات پر مظاہروں میں شریک ہونے والے ہزاروں افراد ماحولیات سے متعلق حکومتوں کے د رمیان پائے جانے والی انتشاری کیفیت کے خاتمے کا مطالبہ خاص طور پر کر رہے تھے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM