1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوپن ہیگن: عالمی ماحولیاتی کانفرنس

عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کے لئے درجنوں عالمی سربراہ آج کوپن ہیگن پہنچ رہے ہیں۔ امریکی صدر اوباما نے امید ظاہر کی ہے کہ اس کانفرنس میں تحفظ ماحول کے لئے عالمی معاہدہ پر اتفاق رائے ہوجائے گا۔

default

کوپن ہیگن کانفرنس، جس میں اب تک زیادہ تر وزراء ماحولیات شریک تھے ابھی تک تنازعات کا شکار ہے۔ کانفرنس میں شریک ترقی پذیر ملکوں کا مطالبہ ہے کہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک عالمی ماحول کے تحفظ کے لئے زیادہ سے زیادہ کوششیں کریں، اور مالی وسائل بھی مہیا کریں، کیونکہ عالمی ماحول کی تباہی کا باعث بننے ضرر رساں گیسوں کے اخراج کے زیادہ تر ذمہ دار یہی ملک ہیں، جن میں امریکہ سرِفہرست ہے۔ تاہم کانفرنس میں شریک اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اِس حوالے سے کہا کہ صرف امریکہ ہی نہیں ہے، جسے اپنے ہاں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر ملک کے اپنے مسائل ہیں لیکن یہ ایک عالمگیر چیلنج ہے، جس کا جواب بھی عالمگیر یک جہتی کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔

کوپن ہیگن کانفرنس کے اختتام میں اب صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ کل جمعرات کے روز سے 120 ممالک کے

Ban Ki Moon in Afghanistan

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل: بان کی مون۔ فائل فوٹو

سربراہان کی اس کانفرنس میں شرکت سے تنازعات کو حل کرلیا جائے گا اور ایک قابل عمل معاہدے تک پہنچنا ممکن ہوجائے گا۔ کیونکہ پوری دنیا کی نظریں اس وقت کوپن ہیگن پر لگی ہیں۔ گزشتہ روز دنیا کے اَسی مختلف شہروں کے بلدیاتی اور انتظامی اداروں کی طرف سے کوپن ہیگن کانفرنس کے شرکاء سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ یہ کانفرنس ہر حال میں کامیاب رہنی چاہئے، اور شرکاء کو لازمی طور پر ایک نئے عالمی ماحولیاتی معاہدے کی تفصیلات پر اتفاق کر لینا چاہیے۔ کانفرنس سے اپنے خصوصی خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس کانفرنس کو ایک فیصلہ کن وقت قرار دیتے ہوئے یہی اپیل کی۔ بان کی مون نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ کیا کرنا چاہیے، دنیا ہم سے کیا امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے۔ ایک عالمی معاہدہ سب کی ذمہ داری ہے۔ ایک ایسا معاہدہ جو گرین ہاؤس گیسوں

Obama Nobelpreisverleihung

باراک اوباما: فائل فوٹو

کےاخراج میں کمی لائے۔ ایک ایسا معاہدہ جو خطرات میں گھری ہماری زمین کے بچاؤ کا ضامن ہو اور جس کے ذریعے دنیا میں سبز انقلاب برپا کیا جاسکے۔

دوسری طرف 193 ملکوں کے درمیان جاری اس کانفرنس میں شریک چند ملکوں کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شاید مقررہ وقت کے دوران نئے عالمی معاہدے پر اتفاق ممکن نہ ہوسکے۔ کوپن ہیگن پہنچے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے بھی گزشتہ شب کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے اعلی سطحی مرحلے کے آغاز پر انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اس کانفرنس میں کسی نتیجے تک نہ پہنچ پائیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ابھی بہت سے مسائل حل طلب ہیں۔

دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درپیش خطرات سے بچانے کے لئے کوپن ہیگن میں جاری عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا آغاز سات دسمبر کو ہوا تھا اور یہ جمعہ 18 دسمبر کو اختتام پزیر ہوگی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عابد حسین