1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کون ہے، جو کسی دہشت گرد کے اندر جھانک سکے

دَورِ حاضر کے ممتاز جرمن ناول نگار بیرنہارڈ شلنک نے اپنے تازہ ناول ’’دا وِیک اَینڈ‘‘ میں سابق جرمن دہشت پسند تنظیم RAF کے جیل سے رہا ہونے والے ایک رکن کی داستان بیان کی ہے۔

default

ممتاز جرمن ادیب بیرنہارڈ شلنک

Bernhard Schlink بنیادی طور پر قانون کے پروفیسر اور آئینی عدالت کے جج ہیں۔ ویسے تو وہ بچپن ہی سے نثر لکھتے رہے اور جرم و سزا کی کہانیوں کے لئے ایک بڑا جرمن اعزاز بھی حاصل کیا لیکن ایک ادیب کے طور پر عالمی شہرت اُنہیں 1995ء میں ملی، جب اُن کا ناول The Reader شائع ہوا۔

جرمن زبان میں اِس کتاب کا نام تھا، Der Vorleser ۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے اسکول طالبِ علم کی، جو اپنے سے عمر میں کہیں بڑی ایک خاتون کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اُسے کہانیاں وغیرہ پڑھ کر سناتا ہے۔ برسوں بعد اُسے پتہ چلتا ہے کہ وہ خاتون اَن پڑھ تھی اور ایک نازی سوشلسٹ اذیتی کیمپ میں نگران کے طور پر کام کرتی تھی۔

اِس ناول کے نتیجے میں بَیرن ہارڈ شلِنک راتوں رات دُنیا بھر میں مشہور ہو گئے، یہاں تک کہ یہ کتاب امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ کی بَیسٹ سیلر کتابوں کی فہرست میں شمار ہوئی۔ تب تک جرمن زبان کے کسی ادیب کو یہ کامیابی نہیں ملی تھی، حتیٰ کہ نوبیل انعام یافتہ جرمن ادیبوں تھوماس مان اور گنٹر گراس کو بھی نہیں۔

Buchcover: Bernhard Schlink - Der Vorleser (Hörbuch)

بیرنہارڈ شلنک کے عالمی شہرت یافتہ ناول Der Vorleser یعنی دا رِیڈر کےآڈیو ایڈیشن کا سرِورق

دَورِ حاضر کے اِس نامور جرمن ادیب کا تازہ ناول ہے، Das Wochenende یعنی دا وِیک اَینڈ یا اختتامِ ہفتہ۔ اِس میں جرمن تاریخ کے ایک اور نازُک دَور یعنی ستر کے عشرے کی دہشت گردی کو موضوع بنایا گیا ہے۔

یہ ناول ایک طرح سے بہت بَر وقت آیا ہے۔ ابھی ایک سال پہلے جرمنی میں اِس موضوع پر بہت بحث مباحثہ ہوا تھا کہ دہشت گرد تنظیم RAF یعنی رَیڈ آرمی فیکشن کے رکن کرِسٹیان کلار کو معافی دی جائے یا نہیں۔ کچھ لوگ اِس کے حق میں تھے اور کچھ اِس کے خلاف۔

بَیرن ہارڈ شلِنک کے ناول میں بھی مرکزی کردار ایک ایسے ہی شخص کا ہے۔ کرِسٹیان کلار کے برعکس ناول کے فرضی کردار کو، جس کا نام Jörg ہے، وفاقی جرمن صدر سے معافی مل جاتی ہے۔

اِس کہانی کا آغاز جیل سے رہائی کی صبح ہوتا ہے، جب Jörg کی بہن اُسے لینے کے لئے آتی ہے۔ وہاں سے وہ دونوں ایک دیہی رہائش گاہ پر جاتے ہیں تاکہ وِیک اَینڈ پر دوست احباب کے ساتھ اِس رہائی کا جشن منا سکیں۔ بیرنہارڈ شلِنک کے مطابق اُن کے ذہن میں اِس ناول کا تصور بہت پہلے سے موجود تھا۔

22.04.2008 DW-TV Kultur21 Das Wochenende

بیرنہارڈ شلنک کے تازہ ناول کا ٹائیٹل

”ایک روز مَیں اپنے والدین سے ملنے گیا اور میری ماں نے کہا کہ بیرنہارڈ، ہم نے ایک بات سوچی ہے کہ اگر تم دہشت گرد ہوتے اور پولیس سے بھاگتے بھاگتے ایک شام یہاں گھر پر آجاتے تو ہم تمہیں یہ کہتے کہ ہاں! ایک رات کے لئے تم یہاں ٹھہر سکتے ہو لیکن اگلی صبح تمہیں گھر سے جانا ہو گا۔ تب مَیں نے سوچا کہ اگر اُس روز میرا کوئی بھائی بہن بھی وہاں ہو، میرا کوئی پرانا دوست بھی وہاں آ جائے تو اُس ایک رات کو ہم سب کے درمیان کس طرح کی باتیں ہوں گی۔ تب سے جرمن خزاں کا موضوع ہمیشہ میرے ذہن میں رہا ہے۔“

جرمن خزاں سے مراد ہے، جرمن دہشت گرد تنظیم ریڈ آرمی فیکشن یا RAF کی دہشت گردی، جو آجرین کی تنظیم کے صدر ہنس مارٹِن شلائر کے قتل، جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا کے جَیٹ کے اغوا اور RAF کے تین اراکین کی خود کُشی کے ساتھ 1977ء میں اپنے نقطہءعروج کو پہنچ گئی تھی۔

اِس موضوع پر قلم اُٹھانا کافی جرأت کا کام ہے۔ ناول کا زیادہ تر حصہ کرداوں کی باہمی گفتگو پر مشتمل ہونے کے باعث گراں بھی گذرنے لگتا ہے۔ تاہم بَیرن ہارڈ شلِنک کے نزدیک یہ گفتگو بھی بے حد اہم ہے۔

Symbolbild RAF Rote Armee Franktion Deutschland

بائیں بازو کی سابق جرمن دہشت گرد تنظیم آر اے ایف کا علامتی نشان

”مَیں اپنی نسل کے متوسط بورژوا طبقے کے خیالات دکھانا چاہتا تھا، جو کم و بیش تبدیلی کا خواہاں تھا اور اِس مقصد کے لئے کم یا زیادہ غیر قانونی کام کرنے پر بھی تیار تھا۔ تب ہمارا موضوع تھا، انسانوں اور اَشیاء کے خلاف تشدد کا استعمال۔ اِسی طبقے کی تصویر کشی میرا موضوع ہے، جو کسی حد تک ہمدردی تو رکھتا تھا، ساتھ بھی دیتا تھا لیکن جس نے اب جیل سے رہا ہونے والے Jörg کے برعکس دہشت گردی میں عملی طور پر قدم نہیں رکھا۔‘‘

بیرنہارڈ شلنک اپنے اِس ناول کے ذریعے دکھانا چاہتے ہیں کہ ایک وِیک اَینڈ پر مل بیھٹنے والے یہ دوست احباب، جو اُس دَور میں بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے اور سماج کو بدلنا چاہتے تھے، آج کے زمانے میں کس طرح سے سوچتے ہیں اور جرمن خزاں کے تیس برس بعد وہ کس انداز میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

اِس ناول میں بیرن ہارڈ شلنک دکھاتے ہیں کہ باقی دوست احباب اپنے اُس ساتھی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، جو ایک بہتر دُنیا تشکیل دینے کی کوشش میں دہشت گرد اور قاتل بن گیا۔

Kiran Nagarkar

معروف بھارتی ادیب کرن نگارکر

ایک دہشت گرد تو کہے گا کہ اُس کی کارروائیاں ایک اچھے مقصد کے لئے ہیں جبکہ دراصل وہ بے گناہ انسانوں کو ظلم کا نشانہ بنا رہا ہوتا ہوتا ہے۔ وہ کیوں آخر اِس چیز کو نہیں سمجھ پاتا؟ اِس سوال کے جواب میں معروف بھارتی مصنف کِرن نگارکہتے ہیں کہ کوئی بھی ادیب پوری طرح سے کسی دہشت گرد کے اندر کی دُنیا میں جھانکنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ کسی انسان کے دہشت گرد یا انتہا پسند بن جانے کے پیچھے بے شمار اور مختلف وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔

انگریزی زبان کے مشہور ناول ’’گاڈز لٹل سولجر‘‘ کے مصنف کرن نگارکر نے کہا کہ زیادہ تر لوگ مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ قوم پرستانہ جذبات کی بناء پر انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ’’گاڈز لٹل سولجر‘‘ میں دو بھائیوں کی داستان بیان کی گئی ہے، جن میں سے ایک دہشت گرد بن جاتا ہے۔

کرن نگار آج کل مختصر عرصے کے لئے بھارتی شہر ممبئی سے جرمن دارالحکومت برلن آئے ہوئے ہیں۔ ڈوئچے ویلے کے ہفتہ وار ادبی اور ثقافتی پروگرام کہکشاں میں اُنہوں نے بتایا کہ سرسبز برلن میں وہ سکون اور خاموشی سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہے ہیں اور پُر شور ممبئی کو کچھ عرصے کے لئے گویا بھول گئے ہیں۔