1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کون سے یورپی ملک کی شہریت خریدی جا سکتی ہے؟

مشرقی یورپی ملک مالدووا نے ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو مالدووا کی شہریت دینے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ چھ ماہ قبل پارلیمان نے اس قانونی بل کی منظوری دی تھی، جس پر اب عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

چھ ماہ قبل قانون میں ترمیم کے ذریعے ملک میں ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے ملکی شہریت حاصل کر سکتے ہیں جب کہ مالدووا میں کم از کم پانچ برس کے لیے ڈھائی لاکھ یورو کی جائیداد خریدنے پر بھی اس ملک کی شہریت مل سکتی ہے۔

یورپ کے اس غریب ترین ملک سمجھے جانے والی ریاست میں اوسط ماہانہ آمدن 315 ڈالر ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح سرمایہ کاروں کو مالدووا کی جانب مائل کر کے ملکی اقتصادیات کو تحریک دی جائے۔

اس قانونی بل کو مالدووا کی پارلیمان نے 26 دسمبر کو منظور کیا تھا، تاہم اس بابت میڈیا نے توجہ نہ دی اور اب چھ ماہ بعد اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

Republik Moldau Chisinau Parlament Außenansicht (Imago/ZUMA Press)

گزشتہ ماہ کے آخر میں یہ قانون پارلیمان نے منظور کیا تھا اور اب اس پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے

بدعنوانی پر نگاہ رکھنے والی عالمی تنظیم ٹرانسپینسی انٹرنیشنل سے وابستہ ویاکسلاف ناگوُترا نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات چیت میں کہا کہ اس طرح مالدووا کی حکومت ’سیاہ دھن کو سفید‘ بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہے، کیوں کہ اس سابق سوویت جمہوریہ میں بدعنوانی کسی وبا کی طرح موجود ہے۔

مبصرین کے مطابق اس قانون کا فائدہ روس اور سابقہ سوویت ریاستوں کے علاوہ ایران سے وابستہ افراد بھی اٹھا سکتے ہیں اور اس طرح یورپی یونین میں داخل ہو سکتے ہیں۔

مالدووا کے صدر ایگور دوگان نے حالیہ چند ماہ میں ماسکو اور تہران کے دورے بھی کئے تھے اور وہ ان ممالک کی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون پر زور دے رہے ہیں۔

مالدووا نے یورپی یونین کے ساتھ سن 2014ء میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مالدووا کے شہریوں کو یورپی یونین کے سفر کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس قانون میں کہا گیا ہے کہ پانچ ہزار افراد اس قانون کے تحت شہریت حاصل کر سکتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تعداد حتمی ہے یا سالانہ۔

DW.COM