1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'کولیٹرل ڈیمیج' کی اصطلاح: اور کتنے افغان شہری مارے جائیں گے؟

افغان صوبے ننگرہار میں شادی کی ایک تقریب‘ اتحادی افواج کا ایک اور فضائی حملہ اور نتیجتاً سینتالیس شہری ہلاکتیں۔

default

افغانستان میں امریکہ کے ایک اور فضائی حملے میں47 افغان شہری ہلاک ہوگئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے جبکہ اتحادی افواج کے مطابق ان کے حملے کا نشانہ بنیاد پرست طالبان عسکریت پسند تھے۔

بین الااقوامی ادارے ریڈ کراس کے مطابق افغانستان میں صرف پانچ روز میں 250 افغان شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں میں وہ 47 افراد بھی شامل ہیں جو ایک شادی کی تقریب کے لئے جمع ہوئے تھے‘ اور ایک ہفتہ قبل‘ صوبہ ننگرہار میں اتحادی فوج کی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

Pakistan Militärschlag an der Grenze zu Afghanistan

اس واقعے کی تحقیقات کے لئے قائم کی گئی ایک نو رکنی افغان کمیٹی کے سربراہ برہان اللہ شنواری کہتے ہیں: " اس (امریکی( فضائی حملے میں سینتالیس افراد ہلاک جبکہ نو زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی تعلق طالبان یا القاعدہ جیسی عسکری تنظیموں کے ساتھ نہیں ہے۔ دس افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں"۔

ایک مقامی عہدے دار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے بچے اورخواتین ایک افغان دلہن کو اس کے دولہے کے پاس لیجا رہے تھے کہ اتحادی فوجیوں نے بمباری کر دی۔ مذکورہ عہدےدار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دلہن بھی شامل ہے۔

Pakistan Militärschlag an der Grenze zu Afghanistan Beerdigung

تحقیقاتی کمیٹی کے ایک اور رکن محمد آصف کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں صرف تین مرد تھے جبکہ 44 نعشیں عورتوں اور بچوں کی تھیں۔

افغانستان میں اتحادی افواج کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس حملے سے چند روز پہلے بھی ایسا ہی ایک واقعہ صوبہ نورستان میں پیش آیا تھا۔

اتحادی افواج کا اصرار ہے کہ بمباری میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسند ہیں۔ صرف سن دوہزار آٹھ کے آغاز سے لے کر ابھی تک اتحادی افواج کے حملوں میں مرنے والے افغان شہریوں کی تعداد 700 ہے۔

اس وقت تقریباً ستر ہزار غیر ملکی فوجی اہلکارافغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں۔

DW.COM