1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

کولیسٹرول کی دوائی کےحیرت انگیز اثرات

دنیا بھر میں زیابیطس کی وجہ سے ہر 30 سیکنڈ میں ایک مریض کے جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ کاٹنے یعنی ایمپیوٹیشن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایمپیوٹیشن کے خطرات سے بچنے کے لئے ایک حالیہ تحقیق میں بہت اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔

default

کولیسٹرول پر قابوپانے کے لئے استعمال ہونے والی ایک دوا شوگر کے مریضوں میں جسمانی اعضاء کو انفیکشن کی وجہ سے کاٹنے کے امکانات میں کمی کا باعث بنتی ہے

ایمپیوٹیشن کی وجہ سے نہ صرف اس مریض کو تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑتا ہے بلکہ اسکے اہل خانہ کو شدید مالی مشکلات کا شکار ہونا پڑتا ہے اور اس سے علاج فراہم کرنے والے اداروں پر بھی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

آسٹریلیا میں ہونے والی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کولیسٹرول پر قابوپانے کے لئے استعمال ہونے والی ایک دوا شوگر کے مریضوں میں جسمانی اعضاء کو انفیکشن کی وجہ سے کاٹنے کے امکانات میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ فینوفائبریٹ نامی اینٹی کولسیٹرول دوائی کے استعمال سے جسمانی اعضاء کے کٹنے کے امکانات میں 36 فیصد تک کمی واقع ہوجاتی ہے۔ آسٹریلیا میں پانچ سال پر محیط اس تحقیق میں زیابیطس کے 9795 مریضوں کو شامل کیا گیا۔ ان میں سے 4895 مریضوں کو فینوفائبریٹ نامی یہ دوائی دی گئی جبکہ باقی مریضوں کو ان کے علم میں لائے بغیر جو دوائی دی جاتی رہی وہ دراصل بے اثر تھی۔ لہذا وہ مریض یہی سمجھتے رہے کہ انہیں بھی ایک ہی جیسی دوائی دی جارہی ہے۔

پانچ سال تک جاری رہنے والی اس تحقیق کے اختتام تک انفیکشن کی وجہ سے 115 مریضوں کے جسم کے نچلے حصے کے مختلف اعضا کاٹنے کی نوبت آئی۔ اور اہم بات یہ تھی کہ فینوفائبریٹ لینے والے مریضوں کی تعداد میں اس طرح کے واقعات نہ لینے والوں کی نسبت 36 فیصد کم تھے۔ یونیورسٹی آف سڈنی کے نیشنل ہیلتھ اینڈ میڈیکل ریسرچ کونسل کلینیکل ٹرائلز سنٹر میں ہونے والی اس تحقیق کے سربراہ اینتھونی کِیچ اس کمی کی وجہ فینوفائبریٹ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس تحقیق کے نتائج ایمپیوٹیشن یعنی اعضاء کٹنے سے بچانے کے لئے استعمال ہونے والے موجودہ طریقہ علاج میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔