1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کولکتہ کے پان سے برج کے گرنے کا خطرہ

کولکتہ کے مشہور زمانہ ہاؤڑہ برج کو آج کل ایک ایسے خطرے کا سامنا ہے جس کے بارے میں شاید انجینیئرز نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا، او وہ ہے پان کی پیک۔

default

ہاوڑہ برج پر کئے گئے چراغاں کا منظر

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دریائے ہوگلی پر بنے اس پل پر سے دن میں لگ بھگ ایک لاکھ گاڑیاں گزرتی ہیں۔ برطانوی راج کے آخری دنوں میں بنا یہ برج ٹریفک کے لئے 1943ء میں کھولا گیا تھا۔ ہاوڑہ برج دنیا بھر کے بہترین یک ستونی برجوں میں سے ایک ہے۔ لگ بھگ ستر سال بعد اس کی بنیادوں پر زنگ کے آثار واضح طور پر نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

کولکتہ کے لگ بھگ پانچ لاکھ شہری روزانہ اس برج پر سفر کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر روایتی طور پر پان کھانے والے ہیں جو 705 میٹر طویل اس برج پر پیدل سفر کے دوران متعدد بار پان کی پیک پھینکتے ہیں۔

Farmer Proteste Bauern Indien Neu Delhi Flash-Galerie

ایک مطاہرے سے واپسی پر بھارتی شہریوں کا ہجوم

کولکتہ پورٹ ٹرسٹ کے چیف انجینئر امل کمار مہرہ کے بقول بعض  مقامات پر برج کی چوڑائی پچھلے تین سالوں میں نصف رہ گئی ہے۔ خدشات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ شاید اس برج کو عوامی استعمال کے لئے کچھ عرصے تک بند کرنا پڑے۔  کولکتہ کی مرکزی فورنسک سائنسی لیبارٹری کے ڈائریکٹر چندر ناتھ بھٹہ چاریہ کے بقول پان کی پیک، تیزابی مادے کی طرح برج کی بنیادوں کو کھوکلا کر رہی ہے۔

ہاؤڑہ برج خلیج بنگال میں آئے متعدد طوفانوں کا سامنا کرچکا ہے۔ 2005ء میں ایک ہزار ٹن وزنی مال بردار جہاز کی ٹکر بھی اس برج کو بڑا نقصان نہیں پہنچا سکی تھی۔ تاہم چونے اور تمباکو کی آمیزش والی پان کی پیک کے سامنے یہ تاریخی برج بے بس دکھائی دے رہا ہے۔

Indien im Fußballfieber

کولکتہ کے باسی دیوار پر سابق فرانسیسی فٹ بالر زیدان کی تصویر بناتے ہوئے

کولکتہ کے پولیس چیف گوتھم موہان چکرورتی کا کہنا ہے کہ برج پر چلنے والے لاکھوں افراد میں سے درجنوں کو روزانہ پان کی پیک تھوکنے پر جرمانے کئے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق پھر بھی لاٹھی کے زور پر لوگوں کو اس سے نہیں روکا جاسکتا ہے۔ چکرورتی کے مطابق بہتر یہ ہوگا کہ اس بری عادت اور برج کی تاریخی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے۔

پان کھانے کی روایت برصغیر میں دہائیوں پرانی ہے۔ اس سے نہ صرف دانت اور مسوڑھوں کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ معدے اور گلے کے کینسر کا بھی بہت خطرہ رہتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM