1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کولکتہ کے قریبی گاؤں میں زہریلی شراب پینے سے درجنوں ہلاک

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے ایک قریبی گاؤں میں زہریلی شراب پینے سے کم از کم ایک سو دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

مغربی بنگال کے حکام کے مطابق درجنوں مزید افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے، اس باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مغربی بنگال کی انتظامیہ نے زہریلی شراب فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے کولکتہ میں ایک بنگالی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’میں زہریلی شراب بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا چاہتی ہوں۔

یہ واقع مغربی بنگال کے ضلع چوبیس پاراگاناس میں پیش آیا۔ یہ ضلع ریاستی دارالحکومت کولکتہ سے تقریباﹰ تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

قبل ازیں ہلاکتوں کی تعداد پچپن بتائی گئی تھی۔ تاہم اس وقت بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے مغربی بنگال سے

Mamta Banerjee

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی

نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد ستاون بتائی تھی۔ پی ٹی آئی کے مطابق دس افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ سینتالیس نے ہسپتال میں دَم توڑا۔

اس خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ہلاک اور متاثرہ افراد میں سے بیشتر غریب مزدور اور خوانچہ فروش ہیں۔

ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر نارائن سواروپ نگم نے ٹیلی فون پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’ہلاکتوں کی تعداد پچپن ہو چکی ہے، لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ اس میں اضافہ ہو گا۔ ‘‘

سویلین ایڈمنسٹریٹر کا بھی کہنا ہے کہ زہریلی شراب پینے سے کم از کم ایک سو تین افراد متاثر ہوئے ہیں، جو ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ متاثرین نے منگل کی شب زہریلی شراب پی تھی اور ہلاکتوں کا سلسلہ بدھ کی صبح شروع ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی انتظامیہ نے متاثرہ گاؤں کے قریبی ڈائمنڈ ہاربر ہسپتال میں فوری طور پر مزید ڈاکٹر بھیجے جبکہ دوائیں بھی فراہم کی گئیں۔

پولیس نے غیرقانونی طور پر شراب بیچنے والے چار افراد کو گرفتار بھی کیا۔ دوسری جانب مشتعل افراد نے گاؤں میں موجود شراب خانوں میں توڑ پھوڑ کی اور انہیں چلانے والوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس