1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کولون کا ’ ایکسلزیئر ایرنسٹ‘ جرمنی کا بہترین ہوٹل

جرمنی میں ہر سال بہترین ہوٹل کا خطاب دیا جاتا ہے اور مسلسل دوسری مرتبہ یہ اعزاز کولون کے ہوٹل ایکسلزیور ایرنسٹ کو دیا گیا۔ یہ ہوٹل کولون کے معروف کیتھیڈرل ’ڈوم‘ کے پاس ہے۔

default

ایکسلزیئرایرنسٹ (Excelsior Ernst) کی کئی خصوصیات ہیں۔ جیسے کہ اس کا محل وقوع، ایک طرف تاریخی ڈوم کی شاندارعمارت تو تھوڑے ہی فاصلے پر دریائے رائن۔ صرف یہی نہیں یہاں ہرچیز موجود ہے اگرنہ بھی ہو تو اسے منگایا جاتا ہے۔ اس ہوٹل میں’ نہیں‘ کا صیغہ استعمال نہیں کیا جاتا۔ مہمان کی ہرخواہش پوری کی جاتی ہے اوراسے حقیقتاً بادشاہ کا درجہ دیا جاتا ہے۔

Hotel Excelsior Köln

اس ہوٹل کی مستقل تزئیں و آرائش جاری رہتی ہے

اس ہوٹل میں صرف مہمان ہی نہیں پوری دنیا سے آتے بلکہ یہاں کام کرنے والے افراد کا تعلق بھی مختلف ممالک سے ہے۔

ہوٹل کے ڈائریکٹر ولہیلم لُکسم کہتے ہیں جب بھی ہوٹل میں کام کے لئے کوئی درخواست موصول ہوتی ہے تو انہیں اس سے غرض نہیں ہوتا کہ اس کا تعلق کس ملک سے ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کیا کچھ کر سکتا ہے۔ غیر ملکی زبانیں جاننا ضروری ہے اور سروس کس طرح کی جاتی ہے۔ ولہیلم لُکسم اس بات پر بہت خوش ہیں کہ ان کے ہوٹل نے دوسری مرتبہ جرمنی کے بہترین ہوٹل کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

کولون ریلوے اسٹیشن سے پیدل فاصلے پرقائم اس ہوٹل میں جرمن تاجروں کی ایک بڑی تعداد آ کر ٹھہرتی ہے۔ اسی لئے اسے تاجروں کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔

Hotel Excelsior Köln

ولہیلم لکسم دوسری مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرنے پر خوش ہیں

ڈوم کلیسا کے پہلو میں واقع ایکسلزیئر ایرنسٹ میں ڈھائی سو یورو سے لے کر ساڑھے اٹھارہ سو یورو تک کے کمرے اورسوئٹ ہیں۔

ولہیلم لکسم نے بتایا کہ مستقل بنیادوں پر ہوٹل کی تزئیں و آرائش کی جاتی ہے۔ ہوٹلنگ کی صنعت میں جو بھی جدت متعارف کرائی جاتی ہے وہ فوری طور پریہاں لائی جاتی ہے۔ اس ہوٹل کو کارل ایرنسٹ نے 147 سال قبل تعمیر کیا تھا۔

مہمانوں کی خدمت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری 180 افراد پر ہے۔ اس ہوٹل کو ساٹھ کی دہائی میں ہی فائیو اسٹار کا درجہ دے دیا گیا تھا اوراس کا شمار دنیا کے450 بہترین ہوٹلزمیں ہوتا ہے۔ ہرکمرے کی علیحدہ خصوصیات ہیں اور اگر کوئی مہمان اپنی خصوصی خواہشات کا بیان کرتا ہے تو وہ بھی پوری کی جاتی ہیں۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : افسر اعوان