1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کولون میں ’ گیمز کوم ‘ کا افتتاح

جرمن شہرکولون ہرسال کمپیوٹرگیمزکے یورپ کے سب سے بڑے میلے ’گیمز کوم‘ کی میزبانی کرتا ہے۔ اس سال 18سے 22 اگست تک دنیا بھرسے آئی ہوئی کمپنیاں اپنی نئی مصنوعات کے ساتھ کمپیوٹر گیمز کے مداحوں کے دل لبھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

default

جرمنی کا شمار کمپیوٹرگیمز کی دنیا کی بڑی صنعتوں میں ہوتا ہے۔ گیمزکوم میں نئے کپیوٹر کھیل اور اُن سے متعلقہ جدید ترین مصنوعات متعارف کرائی جاتی ہیں۔ نمائش میں آنے والوں کے لئے صرف انڈور ہی نہیں بلکہ آؤٹ ڈور تفریحات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جس میں موٹرسائیکل شو، اسکیٹنگ، کمپیوٹر گیمزکے مقابلے اور مختلف میوزک کنسرٹ شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں ہر چوتھا شہری کمپیوٹر پر گیمزکھیلتا ہے۔ سال 2009 ء کے دوران پچیس ملین یورو سے زائد مالیت کے کمپیوٹر گیمز فروخت کئےگئے تاہم 2010ء میں ابھی تک کی صورتحال اس سے کچھ مختلف ہے۔

Gamescom 2010 Köln Messe Computer Computerspiele Games Convention Flash-Galerie

اس مرتبہ پانچ سو سے زائد کمپنیاں گیمز کوم میں موجود ہیں، جوگزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے

جرمنی میں تفریحی سوفٹ ویئر تیار کرنے والے اداروں کی مرکزی تنظیم کے سربراہ اولاف وولٹرز کہتے ہیں کہ گزشتہ کئی برسوں سےکمپیوٹر گیمز کی فروخت میں ہر سال اضافہ ہی دیکھنے میں آتا تھا تاہم اس سال اِس میں نظر آنے والی کمی حیرت انگیز ہے:’’سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران گیمز کی فروخت بہت اچھی تھی، جس نے ہم سب کوحیرت میں ڈال دیا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ سال کے آغاز میں موسم بہت سرد تھا اور لوگ زیادہ تر وقت گھر پر گزارتے تھے جبکہ دوسری سہ ماہی میں گیمزکی فروخت میں معمولی سی کمی آئی۔ اس کی وجہ فٹ بال کا عالمی کپ اور شدید گرمی تھی۔‘‘

جرمنی میں ایک اچھے کمپیوٹرگیم کی قیمت پچیس یورو کے لگ بھگ ہے۔ اس مرتبہ پانچ سو سے زائد کمپنیاں گیمز کوم میں موجود ہیں، جوگزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ کمپیوٹر گیمز کی تجارت سکڑنے کی ایک وجہ گیمرز کونزولز کی فروخت میں کمی بھی ہے۔ ان کی فروخت میں تقریباً ایک چوتھائی کی کمی آئی ہے۔

gamescom 2009

گیمز کوم میں انڈور ہی نہیں بلکہ آؤٹ ڈور تفریحات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے

جرمنی میں گیمزکے حوالے سے ایک نیا رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے، جو یہ ہےکہ کمپیوٹر گیمز کھیلنے والوں میں سے ہر تیسرا شخص تیس سال سے زائد کا ہو چکا ہے۔ اس سے قبل گیمز نو عمروں میں بہت زیادہ مقبول تھے۔ تاہم ایک ایسا رجحان بھی ہے، جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ ہےکہ ابھی بھی گیمزکھیلنے والے زیادہ تر مرد ہی ہیں۔گیمز بنانے والی کمپنیاں ابھی تک خواتین کو کمپیوٹر اسکرین کے سامنے لانے میں ناکام رہی ہیں۔

انتظامیہ کو امید ہی کہ گیمزکوم دیکھنے کے لئے آنے والوں کی تعداد بھی پہلےکے مقابلے میں زیادہ ہو گی کیونکہ اس سال دو سو نئے گیمز متعارف کرائے جائیں گے، ساتھ ہی بہت سے کمپنیاں نئے کو نزولز کے ساتھ وہاں موجود ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی