1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کولون: مہاجرین کی عارضی رہائش گاہیں خالی کرا لی گئیں

رواں ہفتے جرمن شہر کولون میں قائم پناہ گزینوں کے ہنگامی رہائشی مراکز خالی کرائے جا رہے ہیں۔ متعدد اسکولوں کے اسپورٹس ہالوں میں قائم ہنگامی رہائش گاہیں خالی کرائے جانے کے بارے میں شمشیر حیدر اور ڈینیئل ہائنرش کی رپورٹ

ہمیں وہاں کھڑے دو منٹ ہی گزرے تھے کہ مہاجرین کی رہائش گاہ پر متعین ایک سکیورٹی اہلکار ہمارے قریب آ کھڑا ہوا۔ کچھ دیر ہماری گفت گو سننے کے بعد بولا، ’’کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟‘‘ اس کا لہجہ کچھ غیر دوستانہ تھا اور صاف ظاہر تھا کہ وہ مدد نہیں کرنا چاہتا۔ سکیورٹی اہلکاروں کے تیور دیکھ کر ہم نے مہاجرین سے انٹرویو کیمپ کی حدود سے باہر رہ کر کرنے کو ترجیح دی۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

چہرے پر تھکاوٹ لیے اور پاؤں میں چپل پہنے عراقی مہاجر رہبر معارف بھی کولون کے ایک اسکول کے اسپورٹس ہال میں قائم اس ہنگامی رہائش گاہ میں مقیم ہے۔ اکتیس سالہ معارف نے سن 2003 میں عراقی شہر سلیمانیہ سے ہجرت اختیار کرتے ہوئے یورپ کا رخ کیا تھا۔ اسے بھی اب یہ رہائش گاہ خالی کر کے شہر کے نواح میں بنائے گئے مہاجرین کے ایک نئے کیمپ منتقل ہونا ہے۔

Deutschland Köln - Flüchtling Reber Marif vor seiner Notunterkunft in Köln (DW/D. Heinrich)

اکتیس سالہ عراقی تارک وطن رہبر معارف اپنے کیمپ کے باہر کھڑا ہے

ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں گفت گو کرتے ہوئے معارف کا کہنا تھا، ’’میں گزشتہ راتوں کے دوران بہت کم سو پایا ہوں، اس کیمپ میں اصل مسئلہ سکیورٹی والے لوگ نہیں ہیں، وہ تو بہت اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں، شہر کی انتظامیہ بھی بہت خیال رکھتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیمپ میں کئی سر پھرے مہاجر مقیم ہیں، یہاں افریقہ، افغانستان، عراق سمیت کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے صرف نوجوان مرد رہ رہے ہیں تو ظاہر ہے مسئلہ تو ہر وقت جاری رہتا ہے۔‘‘

سن 2015 میں کولون کے اس اسپورٹس ہال میں بنائی گئی مہاجرین کی اس عارضی ہنگامی رہائش گاہ میں دیگر ایسے کیمپوں کی طرح درجنوں مرد مہاجر ایک ہی چھت تلے رہ رہے ہیں۔ کسی کے لیے بھی پرائیویسی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی رہائشیوں کے مابین مسئلہ پیدا ہو جانا معمول کی بات ہے۔

کیمپ سے پانچ میٹر کے فاصلے پر اسکول کی عمارت واقع ہے۔ یہاں زیر تعلیم گیارہویں جماعت کے تین طلبا سے ڈی ڈبلیو نے پوچھا کہ مہاجرین کے باعث کیا انہیں کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا؟ تینوں کا جواب نفی میں تھا۔ ایک طالب علم ٹِم گلاڈباخ خود بھی فٹبال کھیلتا ہے، لیکن اسے اپنے اسپورٹس ہال سے زیادہ فکر یہاں رہنے والے مہاجرین کی ہے۔ گلاڈباخ کہنے لگا، ’’میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی ایک ہی چھت تلے اتنے سارے لوگوں کے ساتھ برسوں تک کیسے رہ سکتا ہے۔‘‘

Deutschland Köln - Flüchtling Reber Marif vor seiner Notunterkunft in Köln (DW/D. Heinrich)

اسکول کے طلبا کو اپنے اسپورٹس ہال سے زیادہ فکر یہاں رہنے والے مہاجرین کی ہے

کیمپ کی حدود سے باہر کھڑے معارف سے بھی ہم نے یہی سوال پوچھا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دے پاتا، کیمپ کا ایک اور سکیورٹی اہلکار ہمارے قریب آیا اور پوچھنے لگا، ’’آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں۔‘‘ کچھ بحث و تکرار کے بعد وہ واپس اندر چلا گیا لیکن معارف ہمارے ساتھ گفت گو روک کر کہنے لگا، ’’دیکھیں میں کسی مسئلے میں نہیں پڑنا چاہتا، میں مسئلوں ہی سے بھاگ کر جرمنی میں پناہ کی تلاش میں پہنچا ہوں۔ مجھے بس سکون چاہیے۔‘‘ لیکن جاتے جاتے نئے کیمپ میں منتقلی کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوے معارف یہ بھی کہہ گیا کہ وہاں تو اس کیمپ سے بھی زیادہ مرد ہوں گے اور مسئلے بھی۔

اتنی دیر میں شور سنائی دیا، کچھ مہاجرین آپس میں جھگڑ پڑے تھے۔ سکیورٹی اہلکار فوراﹰ اندر کی جانب بھاگے۔ ہوا کیا تھا، یہ تو معلوم نہ ہو سکا کیوں کہ کیمپ میں ہمیں داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ شاید نئی رہائش گاہ منتقلی کے بعد حالات یہاں کی نسبت کچھ بہتر ہو پائیں۔

صرف کولون شہر کے اسکولوں میں مہاجرین کی ستائیس ہنگامی رہائش گاہیں قائم کی گئی تھیں۔ ان میں سے چھ کے علاوہ باقی سب کو پہلے ہی خالی کرایا جا چکا ہے جب کہ باقی ہال بھی رواں ہفتے خالی کرا لیے جائیں گے۔ شہر کی انتظامیہ کے مطابق گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تمام اسپورٹس ہال واپس اسکولوں کے سپرد کر دیے جائیں گے۔ صرف کولون ہی میں نہیں، بلکہ سال کے آخر تک جرمنی بھر میں ہنگامی رہائش گاہیں ختم کی جا رہی ہیں۔ سن 2016 میں ستر ہزار مہاجرین ہنگامی کیمپوں میں مقیم تھے جب کہ 2017ء میں یہ تعداد کم ہو کر پندرہ ہزار رہ چکی ہے۔

’جو جتنی جلدی واپس جائے گا، مراعات بھی اتنی زیادہ ملیں گی‘

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

DW.COM