1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کولون جنسی حملے: کیا ملزمان تارکین وطن تھے؟

سال نو کے موقع پر جرمن شہر کولون میں ’عرب دکھائی دینے‘ والے نوجوانوں نے منظم طریقے سے بڑے پیمانے پر خواتین پر جنسی حملے کیے تھے۔ ان مبینہ حملوں کے بعد جرمنی میں تارکین وطن کے بارے میں جاری بحث میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔

جرمنی کی سیاسی جماعتوں اور اعلیٰ قیادت نے مبینہ جنسی زیادتی اور حملوں پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اس معاملے میں پناہ گزینوں کو ’قربانی کا بکرا‘ نہ بنایا جائے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ کولون ریلوے اسٹیشن اور اس سے ملحقہ چرچ کے احاطے میں خواتین کے ساتھ کی جانی والی مبنیہ جنسی زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات کی مکمل تفتیش اور تحقیقات کی جائیں۔

انگیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفان زائبرٹ کے مطابق میرکل نے کولون شہر کی میئر، ہنریٹے ریکر سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے منظم جنسی حملوں پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ میرکل نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں ’ریاست کی جانب سے سخت ردعمل‘ دکھانے کی ضرورت ہے۔

کولون کی میئر سے بات چیت کرتے ہوئے میرکل کا کہنا تھا، ’’ملزمان کی قومیت اور پس منظر سے قطع نظر ان کی جلد از جلد شناخت کی جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔‘‘

کولون شہر کی پولیس نے بتایا ہے کہ انہیں اب تک 90 شکایات موصول ہو چکی ہیں تاہم پولیس چیف وولف گانگ البرز کا کہنا ہے کہ مزید متاثرہ خواتین کی جانب سے شکایات موصول ہو سکتی ہیں۔

پولیس نے عینی شاہدوں اور متاثرہ خواتین کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی عمریں بیس اور تیس برس کے درمیان تھیں اور ان کا تعلق ’عرب یا شمالی افریقی ممالک‘ سے تھا۔ حملہ آوروں نے گروپوں کی صورت میں خواتین کو گھیر کر انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعض جگہوں پر ان سے قیمتی اشیاء بھی چھین لیں۔

جرمنی کے وفاقی وزیر انصاف ہائیکو ماس کا کہنا تھا کہ یہ جنسی حملے ’جرائم کی ایک نئی صورت‘ ہیں اور بظاہر یہ جرائم باقاعدہ منصوبہ بندی اور منظم انداز کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ ماس کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں کو تارکین وطن کے مسئلے سے جوڑنا موقع پرستی ہے۔ ماس کے مطابق، ’’یہ بات اہم نہیں کہ حملہ کرنے والے کون تھے، اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے ایسا جرم کیوں کیا۔‘‘

دریں اثنا انتہائی دائیں بازو کی جرمن سیاسی جماعت اے ایف ڈی کا کہنا ہے کہ یہ حملے ’پناہ گزینوں کو جانچ کے بغیر جرمنی آنے کی اجازت‘ دینے کے باعث پیش آئے۔ اے ایف ڈی کے سربراہ فراؤکے پیٹری کا کہنا تھا، ’’ایسے واقعات کی صورت میں جرمنی کی مہاجرین اور تارکین وطن کے بارے میں اختیار کی گئی تباہ کن پالیسی کے اثرات جرمنی کی روز مرہ زندگی میں دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں۔‘‘

دراصل ہوا کیا تھا؟

متاثرہ خواتین نے نوجوانوں کی گروپوں کی جانب سے جنسی حملوں کے بھیانک تجربات بیان کیے ہیں۔ اٹھائی سالہ کاٹِیا کا کہنا ہے کو وہ اپنی تین سہیلیوں کے ہمراہ کولون ریلوے اسٹیشن کے باہر موجود تھی کہ ’غیر ملکی مردوں‘ نے انہیں آن گھیرا۔ کولون کے مقامی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا، ’’اچانک انہوں نے مجھے دبوچ لیا اور میرے جسم کے ہر حصے کو چُھونا شروع کر دیا۔ یہ بہت بھیانک تھا۔ میں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا لیکن وہ لڑکے نہیں رکے۔‘‘

تیس سالہ ایک اور جرمن خاتون نے جرمن ٹی وی N24 کو بتایا کہ بظاہر ’عرب دکھائی دینے والے مردوں‘ نے اسے گھیر کر چھیڑ چھاڑ کرنا شروع کر دی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ لوگ تھوڑے نشے میں بھی تھے تاہم ان میں جارحیت کی بجائے تجسس کا پہلو زیادہ دکھائی دے رہا تھا۔

DW.COM