1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کولون جنسی حملے، ایک برس بعد بھی خوف اور خدشات برقرار

قریب ایک برس قبل نئے سال کی آمد پر جرمن شہر کولون میں متعدد خواتین پر ’تارکین وطن پس منظر‘ رکھنے والے افراد کی جانب سے جنسی حملوں کے بعد مہاجرین کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے تھے، جو اب بھی برقرار ہیں۔

گزشتہ برس ایک ترک ساحل پر ایلان کردی نامی شامی بچے کی لاش کی تصویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی، تو جرمنی سمیت یورپ بھر میں مہاجرین سے متعلق ہمدردانہ جذبات دیکھنے میں آئے تھے۔ اسی تناظر میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے مہاجرین کے لیے سرحدیں کھول دینے کے اعلان کو بھی جرمنی میں تعریفی نگاہ سے دیکھا گیا تھا، تاہم نئے سال کے آغاز کے موقع پر مغربی جرمن شہر کولون میں خواتین پر جنسی حملوں میں درجنوں واقعات کے بعد پہلی بار مہاجرین کے حوالے سے کھل کر تنقید سامنے آنے لگی تھی۔ اس واقعے کے بعد عوامی سطح پر ایسے بیانات سامنے آئے تھے، جن میں مہاجرین کے یورپی معاشرے میں انضمام کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔

کولون شہر سے تعلق رکھنے والی طالبات سارہ اور لاؤرا کا کہنا ہے کہ ایک برس گزر جانے کے باوجود اب بھی اس واقعے کے ’آفٹرشاکس‘ دیکھے جا سکتے ہیں۔

25 سالہ سارہ نے اس حوالے سے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’’تب سے تمام مہاجرین کو شبے کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ بہت بری بات ہے، مگر یہ حقیقت ہے۔‘‘

Demonstrationen nach Übergriffen in Köln (picture-alliance/dpa/O. Berg)

ان واقعات کے بعد جرمنی میں خواتین نے مظاہرے بھی کیے تھے

سارہ کی 20 سالہ دوست لاؤرا کا کہنا ہے، ’’اس واقعے نے میرے اندر بھی عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا۔ ایسا ہو، تو پھر آپ اسے کبھی نہیں بھول سکتے۔ اب غیرملکیوں کے لیے نفرت کے جذبات بہت بڑھ گئے ہیں۔‘‘

بین الاقوامی سطح پر شہ سرخی بننے والے ان جنسی حملوں نے چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسی پر بحث کو ہوا دی تھی۔ سوال یہ تھا کہ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد، جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، کا جرمن معاشرے میں انضمام کیسے ممکن ہو گا۔

ایک ایسے موقع پر جب جرمنی اگلے برس پارلیمانی انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے، تمام اہم جماعتوں نے مہاجرین کے حوالے سے اپنے نکتہء نظر میں سختی پیدا کی ہے۔

جرمن پولیس کے مطابق نئے برس کے آغاز پر اسے مجموعی طور پر 12 سو خواتین کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور رہزنی کی شکایات درج کرائی گئیں تھیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، نئے برس کے آغاز کے موقع پر ایک طرف تو انتظامیہ پہلے سے کہیں زیادہ حفاظتی انتظامات کرے گی، مگر ساتھ ہی ساتھ معاشرتی سطح پر یہ بھی دیکھا جا رہا ہو گا کہ کہیں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ تو رونما نہیں ہوا، کیوں کہ اگر پھر اسی طرز اور اسی نوعیت کا کوئی واقعہ پیش آیا، تو اس کا واضح اثر مہاجرین کے حوالے سے جرمن پالیسی پر بھی پڑے گا۔