1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کولون: جرم چند مہاجرین کا اور سزا سبھی کو؟

سال نو کے موقع پر جرمن شہر کولون میں خواتین پر جنسی حملوں میں ملوث ملزموں کی اکثریت کا تعلق الجزائر اور مراکش سے بتایا گیا تھا۔ ایسی خبروں کے بعد دونوں شمالی افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے جرمن شہری بھی پریشان ہیں۔

تہتر سالہ ادریس جرمنی میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔ ادریس کا کہنا ہے کہ کولون جنسی حملوں کے بعد جرمن شہری اسے بھی شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ کولون حملوں کے ملزموں کی طرح ادریس کا تعلق بھی شمالی افریقہ سے ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کی گئی اپنی ایک گفت گو میں ادریس نے بتایا، ’’اگر مراکش کا ایک شہری جرم کرتا ہے تو ہم سب کو مجرم گردانا جاتا ہے۔‘‘ ادریس سینتالیس برس قبل مرکش سے جرمنی آیا تھا۔ ادریس کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث عرب ’خنزیر‘ ہیں۔

سالِ نو کے موقع پر ہونے والے جنسی حملوں میں ملوث تیس مشتبہ ملزموں میں سے پچیس کا تعلق الجزائر اور مراکش سے بتایا جاتا ہے۔ اب تک پولیس نے اس سلسلے میں الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک پناہ گزین کو گرفتار کیا ہے۔

اسلامی امور کے ماہر اور ڈسلڈورف میں فعال سماجی کارکن سامی شاشیرا کے مطابق، ’’گزشتہ تین ہفتوں کے دوران الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیوں کو جرمنی میں ایک دشمن کی مانند دیکھا جا رہا ہے۔‘‘ جرمن وفاقی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے دارالحکومت ڈسلڈورف میں شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے۔

شاشیرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جو کہ کافی پریشان کن بات ہے۔

برلن حکومت کولون واقعات رونما ہونے سے قبل ہی شمالی افریقی ممالک سے جرمنی آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافے سے پریشان تھی۔ گزشتہ برس جون کے مہینے الجزائر سے تعلق رکھنے والے ساڑھے آٹھ سو تارکین وطن جرمنی آئے تھے جب کہ چھ ماہ بعد یہ تعداد بڑھ کر تئیس سو تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح مراکش سے آنے والے تارکین وطن کی تعداد بھی 368 سے بڑھ کر 2896 تک پہنچ گئی تھی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل مراکش اور الجزائر کو ’محفوظ ممالک‘ کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہیں۔ اس اقدام کے بعد ان ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں سیاسی پناہ ملنے کے امکانات نہایت کم ہو جائیں گے۔

مراکش اور الجزائر سے تارکین وطن پہلی مرتبہ ساٹھ کی دھائی میں جرمنی آئے تھے۔ تب انہی لوگوں کی افرادی قوت کی وجہ سے جرمن کارخانے بند ہونے سے بچ گئے تھے۔ گزشتہ نصف صدی سے یہ لوگ پر امن طور پر جرمنی میں رہ رہے ہیں۔

Deutschland Silvesternacht vor dem Hauptbahnhof in Köln

سالِ نو کے موقع پر کولون کے مرکزی اسٹیشن کے ارد گرد بڑی تعداد میں خواتین پر جنسی حملے کیے گئے تھے

الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھنے والی جرمن کمیونٹی نے جرائم میں ملوث افراد سے فوری لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔ شاشیرا کا کہنا تھا کہ ڈسلڈورف شہر میں الجزائر اور مراکش سے تعلق رکھنے والے چالیس سے پچاس ایسے نوجوان ہیں، جن کے جرائم کی وجہ سے پوری کمیونٹی بدنام ہو رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان میں زیادہ تر نوجوان کافی عرصے سے فرانس، بیلجیئم، اٹلی اور اسپین میں غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے اور مہاجرین کے موجودہ بحران کا فائدہ اٹھا کر یہ لوگ جرمنی میں پناہ کی درخواست دینے آ گئے تھے۔

کولون سے تعلق رکھنے والے مراکش کمیونٹی ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد الجنائی کے مطابق کولون حملوں میں ملوث افراد نے ’ایسی گھناؤنی حرکت کی ہے، جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان لوگوں کی وجہ سے اب خواتین ہم لوگوں پر بالکل اعتبار نہیں کرتیں‘۔