1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کولمبیا کے صدر کے لئے تیسری مرتبہ منتخب ہونے کا راستہ بند

کولمبیا کے صدر الوارو ارُیبے کے لئے مسلسل تیسری مرتبہ صدارت کا منصب سنبھالنے کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔ یہ صورت حال ملک کی آئینی عدالت کی جانب سے ایک فیصلے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

default

کولمبیا کے صدر الوارو ارُیبے

عدالتی فیصلے میں صدر ارُیبے کو 30 مئی کا صدارتی انتخاب لڑنے کا اہل ٹھہرانے کے لئے کرایا جانے والا ریفرنڈم غیرآئینی قرار دے دیا گیا ہے۔

کولمبیا کی آئینی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی نہیں کی جا سکتی، جس کے بعد صدر الوارو ارُیبے کے تیسری مدت کے لئے صدر بننے کا دروازہ مستقل طور پر بند ہو گیا ہے۔ عدالت میں نو میں سے سات ججوں نے اس نوعیت کے ریفرنڈم کے خلاف فیصلہ دیا۔

Kindersoldaten in Kolumbien

اُریبے فارک باغیوں کے خلاف مہم کے لئے بھی مقبول ہیں

صدر اُریبے نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کا احترام کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی آخری سانس تک ملک کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ صدر ملک میں سلامتی اور اعتماد کی وہ فضا برقرار رکھیں گے، جو ان کے دور میں قائم ہوئی۔

قبل ازیں آئینی عدالت کے ایک جج موریسیو گونزالیس نے عدالتی فیصلے کے حوالے سے کہا کہ تیسری صدارتی مدت کے لئے حمایت حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم نہیں کرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ریفرنڈم جمہوری اصولوں کے منافی ہوگا۔

ستاون سالہ ارُیبے پہلی مدت کے لئے 2002ء میں صدر بنے جبکہ ملکی کانگریس کی جانب سے آئینی ترمیم کی بدولت 2006ء میں وہ دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔ تاہم اس ترمیم میں صرف مسلسل دوسری مدت کے لئے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

گزشتہ برس دسمبر میں کرائے گئے ایک عوامی جائزے کے نتائج کے مطابق کولمبیا کے 80 فیصد عوام انہیں تیسری مرتبہ صدر کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

ارُیبے جنوبی امریکہ میں واشنگٹن حکومت کے قریبی اتحادی ہیں۔ انہیں ملک میں امن و امان کا کامیاب پروگرام چلانے کے لئے سراہا جاتا ہے۔ وہ فری مارکیٹ پالیسیوں کے حامی ہیں۔ وہ ’ریوولوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا‘ یعنی فارک گوریلوں کے خلاف مہم اور ملک کی اقتصادی صورت حال بہتر بنانے کا 30 سالہ منصوبہ شروع کرنے کے لئے بھی مقبول ہیں۔

فارک لاطینی امریکہ کی قدیم اور اور سب سے بڑی شدت پسند تنظیم ہے، جو چار دہائیوں تک کولمبیا کی حکومت کے خلاف لڑتی رہی۔ خبررساں ادارے AFP نے صدر ارُیبے کے مخالفین کے حوالے سے کہا ہے کہ فارک باغیوں کے خلاف ان کی عسکری مہم کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بھی اضافہ ہوا جبکہ ان کی اقتصادی حکمت عملی کا فائدہ صرف بڑے تاجروں کو ہی ہوا۔

رپورٹ : ندیم گِل

ادارت : افسر اعوان

DW.COM