1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کولمبیا میں نصف صدی سے جاری جنگ کے خاتمے کا تاریخی اعلان

کولمبیا میں حکومت اور فارک مارکسی باغیوں کے درمیان نصف صدی سے جاری جنگ کے خاتمے کا تاریخی اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ تنازعہ قریب پانچ عشروں میں ایک چوتھائی ملین انسانوں کی ہلاکت اور کئی ملین کے بے گھر ہونے کا سبب بنا تھا۔

Kolumbianische Regierung und FARC-Rebellen schließen offiziell Frieden

ہوانا میں طویل مذاکرات کے بعد تاریخی امن سمجھوتے کا اعلان، بوگوٹا حکومت اور باغیوں کے نمائندے ہاتھ ملاتے ہوئے

کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا اور کیوبا کے دارالحکومت ہوانا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق سالہا سال سے مسلسل خونریزی کی وجہ بننے والے اس تنازعے کے باعث قدرتی وسائل سے مالا مال ملک کولمبیا تقریباﹰ ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور طویل عرصے سے بوگوٹا حکومت اور بائیں بازو کے فارک باغیوں کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں فریقین کے مابین ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا جانے کا اعلان بدھ چوبیس اگست کی رات کیا گیا۔

1964ء میں شروع ہونے والی کولمبیا کی یہ خانہ جنگی دنیا کے طویل ترین اور خونریز ترین مسلح تنازعات میں سے ایک تھی اور اس معاہدے کے مطابق مارکسی نظریات کی حامل کولمبیا کی مسلح انقلابی افواج یا فارک (FARC) کے گوریلے اب اپنے ہتھیار پھینک دیں گے اور جواباﹰ بوگوٹا حکومت ان باغیوں کے ملکی معاشرے میں انضمام کو یقینی بنائے گی۔

ہوانا سے، جہاں اس جنگ کے فریقین 2012ء سے امن بات چیت میں مصروف تھے، جمعرات پچیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق یہ جنگ گزشتہ 52 برسوں میں دو لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کی ہلاکت اور ہزارہا دیگر کے لاپتہ ہو جانے کی وجہ بنی۔ اس کے علاوہ اس تنازعے کے دوران کولمبیا میں خونریزی سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کئی ملین انسان بے گھر بھی ہو گئے تھے۔

کیوبا کی ثالثی میں قریب چار سال تک جاری رہنے والی مکالمت کے بعد طے پانے والے تاریخی امن سمجھوتے کے اعلان کے فوری بعد کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں گزشتہ رات جشن کا سا سماں تھا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے گھروں سے نکل کر خوشیاں منانا شروع کر دیں۔

اس امن معاہدے کی عوامی توثیق کے لیے کولمبیا میں حکومت اب دو اکتوبر کو ایک عوامی ریفرنڈم بھی کرائے گی، جس میں ملکی رائے دہندگان سے اس امن سمجھوتے کی منظوری کے لیے کہا جائے گا۔

Kolumbianische Regierung und FARC-Rebellen schließen offiziell Frieden Juan Manuel Santos

اب اپنے اچھے مستقبل کا فیصلہ کولمبیا کے عوام کو اکتوبر کے ریفرنڈم میں کرنا ہے، صدر سانتوس کا قوم سے خطاب

ہوانا میں یہ امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد کولمبیا کے 65 سالہ صدر خوآن مانوئل سانتوس نے، جو 2014ء میں فارک باغیوں کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے وعدے کے ساتھ دوبارہ سربراہ مملکت منتخب ہوئے تھے، ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’آج میں اپنے دل کی گہرائیوں سے اور بڑی خوشی کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے وہ فریضہ انجام دے دیا ہے، جو آپ نے مجھے سونپا تھا۔‘‘

صدر سانتوس نے کہا، ’’اب فیصلہ آپ کے، کولمبیا کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ آج سے پہلے ایک اچھے مستقبل کی امید کولمبیا کے عوام کی اتنی زیادہ رسائی میں نہیں تھی، جتنی کہ آج۔‘‘

رائے عامہ کے اکثر جائزوں کے مطابق قوی امید ہے کہ کولمبیا کے عوام اکتوبر کے اوائل میں ہونے والے ریفرنڈم میں حکومت اور فارک باغیوں کے مابین اس تاریخ ساز امن سمجھوتے کی منظوری دے دیں گے۔

DW.COM