1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کوسووو کی آزادی کا مقدمہ، بین الاقوامی عدالت میں سماعت

پرشٹینہ حکومت نے گذشتہ برس سترہ فروری کو اپنے مسلم اکثریتی سابق سیرب صوبے کوسووو کی آزادی اور خود مختاری کا اعلان کر دیا تھا۔ اس حوالے سے مقدمے کی سماعت بین الاقوامی عدالت کر رہی ہے۔

default

دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت میں بلغراد اور پرشٹینہ اپنے اپنے مَوقِف کے حق میں تحریری دلائل پیش کررہے ہیں

کوسووو کی جانب سے کیا گیا یہ اعلانِ آزادی کس حد تک بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ ہے، یہ معاملہ اب دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے سامنے ہے۔ وہاں جمعہ کو بلغراد اور پرشٹینہ اپنے اپنے مَوقِف کے حق میں تحریری دلائل پیش کررہے ہیں۔

دی ہیگ کی عدالت کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا پرشٹینہ حکومت کا اعلانِ آزادی بین الاقوامی قانون سے مطابقت رکھتا ہے۔ برلن کی ہمبولٹ یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر کرسٹیان تومُوشاٹ کے مطابق یہ سوال ہے ہی عجیب کیونکہ کسی ریاست کے اندر موجود کوئی بھی گروپ اپنی آزادی کا اعلان کر سکتا ہے۔ اُن کے خیال میں سوال یہ ہونا چاہیے کہ جن ممالک نے اِس اعلانِ آزادی کو تسلیم کیا ہے، کیا اُن کا ایسا کرنا بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ ہے۔

’’میرے خیال میں اِن ممالک کا ایسا کرنا بین الاقوامی قانون کے دائرے میں آتا ہے لیکن اِس پر بہت شدید بحث مباحثہ ہو گا۔ بہت سے ملک ایسے ہوں گے، جو یہ کہیں گے کہ یہ طرزِ عمل جمہوریہء سیربیہ کی حاکمیتِ اعلیٰ میں مداخلت کے مترادف ہے کیونکہ سیربیہ ایک آزاد اور خو د مختار ملک ہے۔‘‘

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کسی مشترکہ حل پر اتفاق نہ ہونے اور سیربیہ اور کوسووو کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جانے کے بعد پرشٹینہ حکومت نے یکطرفہ طور پر اعلانِ آزادی کر دیا تھا اور اب تک ستاون ممالک اِس نئی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ان ملکوں میں امریکہ،جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ ستائیس رکنی یورپی یونین کے بھی بائیس ممالک شامل ہیں۔ بلغراد حکومت اب بھی کوسووو کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتی ہے۔ گذشتہ سال اکتوبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں معمولی اکثریت کے ساتھ سیربیہ کی یہ درخواست منظور کر لی گئی کہ دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت اِس اعلانِ آزادی کے درست ہونے کے بارے میں فیصلہ دے۔ اِس حوالے سے سیربیہ کے وزیر خارجہ وُوک جَیریے مِچ کا کہنا تھا: ’’سیربیہ کے خیال میں اِس معاملےکو بین الاقوامی عدالت میں لے جانے سے یہ امکان ختم ہو جائے گا کہ دیگر بحران زدہ علاقےکوسووو کے معاملے کو ایک مثال بناتے ہوئے اِسے اپنے علٰیحدگی پسندانہ عزائم کے لئے استعمال کریں۔‘‘

واضح رہے کہ ابخاسیہ اور جنوبی اوسیتیہ نے کوسووو ہی کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی آزادی کے اعلانات کئے اور روس نے اُنہیں تسلیم بھی کیا۔ آج جمعے کو سیربیہ اور کوسووو عدالت میں اپنے دلائل تحریری شکل میں جمع کروائیں گے۔ اِس کے بعد ہر ملک کے پاس سترہ جولائی تک کا وقت ہو گا کہ وہ دوسرے ملکوں کے نقطہء نظر پر اپنی رائے دے۔ پرشٹینہ کے ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے بہت سے مغربی ممالک کوسووو کی حمایت کریں گے جبکہ سیربیہ روس، چین، اسپین، رومانیہ اور چند ایک دوسرے ملکوں کی حمایت کی اُمید کر سکتا ہے۔