1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوریائی خطے کا اتحاد، لی میونگ باک کی دعوت

جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک نے اتوار کے روز شمالی کوریا سے اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیز کارروائیوں کا راستہ چھوڑ دے اور’’جراءت مندانہ تبدیلی‘‘ کے لئے کوشش کرے۔

default

دونوں کوریائی ممالک کے درمیان جاری شدید ترین کشیدگی کے موقع پر اس بیان کو صورتحال بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صدر لی میونگ باک دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے بعد کوریا سے اس کی افواج کے انخلاء اور کوریا کی آزادی کی 65 ویں سالگرہ کی تقریبات سے خطاب کر رہے تھے۔

’’یہ وقت ہے کہ پیونگ یانگ حقیقت کی دنیا میں آئے۔ جراءت مندانہ تبدیلی ممکن بنائے اور بڑے فیصلے کرے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ دونوں کوریائی ریاستوں کو موجودہ تقسیم کے خاتمے اور پرامن اتحاد کے ہدف کو یقینی بنانے کی کوششیں کرنی چاہیئں۔ تاہم لی میونگ باک نے پیونگ یانگ کو خبردار کیا کہ اگر اس کی جانب سے کسی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی، تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

’’شمالی کوریا کوئی اشتعال انگیز کارروائی نہ کرے، کیونکہ ایسی کوئی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘

دریں اثناء شمالی کوریا کی فوج نے دھمکی دی ہے کہ وہ جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کا ’سبق آموز‘ جواب دے سکتا ہے۔

Nordkorea Südkorea Kriegsschiff Konflikt

دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کا آغاز رواں برس مئی میں اس وقت ہوا تھا، جب دونوں ممالک نے مارچ میں جنوبی کوریا کی بحریہ کے ایک جہاز کی تباہی اور غرقابی کا الزام پیونگ یانگ پر عائد کیا تھا۔ دونوں ممالک کی طرف سے یہ الزام ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی اس رپورٹ کے بعد عائد کیا گیا تھا، جس میں اس کمیشن نے جہاز کی تباہی اور غرقابی کی وجہ شمالی کوریا کی جانب سے داغے گئے ایک تارپیڈو کو قرار دیا تھا۔ شمالی کوریا اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

اس کشیدگی میں گزشتہ ہفتے مزید تناؤ اس وقت پیدا ہوا، جب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی ماہی گیر کشتی اپنےمشرقی ساحلی علاقے میں حراست میں لے لی۔ اس وقت جنوبی کوریا بحیرہء زرد میں امریکہ کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر آبدوز شکن مشقوں میں مصروف ہے۔

لی میونگ باک نے دونوں کوریائی ریاستوں کے اتحاد کے لئے ایک طویل المدتی منصوبہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے کوریائی خطے کو جوہری ہتھیاریوں سے پاک بنایا جائے اور پھر ’’امن کمیونٹی‘‘ کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کے فورا بعد شمالی کوریا کی معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے اور پھر دونوں ملکوں کا اتحاد سب سے پہلے معیشت کے شعبے ہی میں ممکن بنایا جائے تاکہ مکمل اتحاد کی راہ ہموار ہو سکے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس