1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوالا لمپور کی سڑکوں پر ہزاروں افراد کا مظاہرہ

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور میں ہزاروں افراد نے خار دار تاروں اور دیگر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے سڑکوں پر وزیر اعظم نجیب رزاق کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

default

وزیر اعظم نجیب رزاق

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور تازہ رپورٹوں کے مطابق کم از کم 14 سو مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اپوزیشن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم انور ابراہیم کی بیٹی نورالعزہ انور کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو بھی پولیس نے زخمی کر دیا ہے۔ کوالا لمپور میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان کا کہنا تھا، ’’ ہم مجرم نہیں، محض صاف و شفاف انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں، ہمارے بہت سے بے گناہ کارکنوں کو زخمی کیا گیا ہے۔‘‘ نور العزہ نے اس ضمن میں وزیر اعظم نجیب رزاق کی حکومت کو ذمہ دار ٹہرایا۔

اس ریاست میں سڑکوں پر اس قسم کا احتجاج غیر معمولی بات ہے اور اسے یہاں کی پھلتی پھولتی معیشت کے لیے نقصان دہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر وزیر اعظم نجیب رزاق پر دباؤ بڑھایا گیا تو وہ قبل از وقت انتخابات اور اقتصادی اصلاحات سے متعلق منصوبے ملتوی کر سکتے ہیں۔ ملائیشیا میں عام انتخابات 2013 ء کو ہونے ہیں تاہم ریکارڈ معاشی نمو کے سبب ایسے امکانات موجود ہیں کہ وزیر اعظم نجیب اپنی مدت میں قبل از وقت توسیع کی کوشش کریں۔ سنگاپور یونیورسٹی میں ملائیشیا سے متعلق امور کی ماہر بریجیٹ ویلش کا کہنا ہے کہ آج کے مظاہروں کے بعد قبل از وقت انتخابات سے وزیر اعظم نجیب کی ساکھ متاثر ہوگی۔

NO FLASH Proteste in Malaysia

مظاہرے کا ایک منظر

اندازوں کے مطابق ہفتہ کو لگ بھگ 10 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔ ملائیشیا کے جمہوری شہنشاہ نے اپوزیشن کی جانب سے اس مظاہرے کی کال کے بعد صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔ اس پر حکومت نے اپوزیشن کو کھلے میدان میں احتجاج کرنے کا کہا، اپوزیشن نے دارالحکومت کے مرکزی اسٹیڈیم میں مظاہرہ کرنا چاہا مگر حکومت نے ایسا کرنے نہیں دیا۔ اس کے بعد اپوزیشن نے سڑکوں پر احتجاج کی پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

ملائیشیا کے موجودہ وزیر اعظم نجیب رزاق نے 2009ء میں ایک کمزور اتحادی حکومت کا اقتدار سنبھالا تھا۔ انہوں نے معیشت میں اصلاحات اور حکومتی نظام میں تمام نسل و مذہب کے لوگوں کی شراکت کی کوشش کی ہے۔ فروری میں ایک عوامی جائزے کے مطابق ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تھا تاہم حالیہ مذہبی و نسلی اختلافات سے ان کی ساکھ کو خطرہ لاحق ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM