1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوئی دباؤ نہیں: پاکستانی وزیر خارجہ

پاکستان نے امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے، صدر آصف علی زرداری پر دباؤ میں اضافے سے متعلق تمام تر خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

default

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عسکریت پسندی کا خاتمہ امریکہ اور پاکستان کا مشترکہ مقصد ہے اس سلسلے میں پاکستان کم یا زیادہ نہیں بلکہ مناسب کوششں کرتا رہے گا۔

یہ بات انہوں نے نیویارک ٹائمز میں امریکہ کی جانب سے پاکستان پر دباؤ میں اضافے سے متعلق رپورٹس کے جواب میں کہی ہے۔ اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے پاکستانی ہم منصب آصف زرداری کو لکھے گئے خط میں ان پر زور دیا تھا کہ وہ سیاسی اور عسکری محاز پر عسکریت پسندی کے خاتمے کی کوششیں تیز کردیں۔

James L. Jones Bildergalerie Kabinett

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز

نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ پیغام امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے دورہ پاکستان کے دوران صدر زرداری کے حوالے کیا۔ رپورٹ کے مطابق خط میں باراک اوباما نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر آصف علی زرداری انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ مہم میں ملک کی سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے اداروں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے متعلق نئی امریکی حکمت عملی کی کامیابی کا دارومدار پاکستان میں جاری فوجی آپریشن کی پیشرفت پر منحصر ہے۔ امریکی صدر ان دنوں ملکی عسکری قیادت کے ساتھ افغانستان میں مزید فوجی دستے بھیجنے کے معاملے پر مشاورت میں مصروف ہیں۔ افغانستان متعین نیٹو کے ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کے سربراہ جنرل سٹین لے مک کرسٹل عسکریت پسندوں کے مقابلے کے لئے مزید چالیس ہزار فوج کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

Kalenderblatt New York Times

رپورٹ کے مطابق اس خط میں، پاکستان کو فوجی آپریشن کا دائرہ کار بڑھانے کے لئے بدلے خفیہ معلومات کی فراہمی اور فوجی تعاون کی پیشکش کی گئی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط خط موصول ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج، سترہ اکتوبر سے جنوبی وزیرستان میں بڑے پیمانے کے زمینی آپریشن میں مصروف ہے۔ حکام نے کارروائیوں میں اب تک پانچ سو سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ طالبان شدت پسندوں کی جانب سے ردعمل کے طورپر، شہری علاقوں میں خودکش بم حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے شمال مغربی صوبہ سرحد کا دارلحکومت پشاوران دھماکوں کی زد میں ہے جہاں درجنوں عام شہری نشانہ بن چکے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM