1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کوئٹہ ہم شرمندہ ہیں‘

پاکستانی شہر کوئٹہ کے قریب پولیس اکیڈمی پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں انسٹھ سے زائد افراد کی ہلاکت کے درد ناک سانحے کے بعد کئی افراد دہشت گردوں کے حوالے سے ریاستی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

صحافی سید طلعت حسین نے لکھا، ’’افغانستان کے  دہشت گرد گروپ کا پاکستان کے ریاستی علاقے کے اتنا اندر پہنچ جانا بہت بڑی ناکامی ہے۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن نفیسہ شاہ نے لکھا، ’’ایک مرتبہ پھر کوئٹہ لہو لہان ہے، چند ہفتے قبل ہم نے کوئٹہ کے سانحے سے کچھ نہیں سیکھا، 60 نوجوان کیڈٹس دہشت گردی کے باعث اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں اور وزیر داخلہ کلعدم تنظیموں کے آگے جھک رہے ہیں۔‘‘

مشرف زیدی نے لکھا،’’کوئٹہ حملہ آوروں کے نظریاتی بھائی اسلام آباد کی لال مسجد چلاتے ہیں اور گزشتہ ہفتے انہوں نے وزیرداخلہ کے ساتھ چائے پی تھی۔‘‘

فیصل سبزواری نے اپنے خیالات کو کچھ بیان کیا، ’’ہمارے پاس سوائے حکومتی دعوؤں، مذمتوں، پریس کانفرنسوں اور ٹاک شوز پر بحث کے علاوہ کوئٹہ کے لیے اور کیا ہے؟ کوئٹہ شہر اپنے بہترین لوگوں کو کھو رہا ہے۔‘‘

افراسیاب خٹک نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا،’’ کوئٹہ حملے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ریاست کی دہشت گردی کے خلاف گمراہ کن پالیسی کا نتیجہ ہے، پناہ گاہیں اور ان کا ردعمل۔‘‘

صحافی طحہٰ صدیقی نے بھی ریاستی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹوئیٹ میں لکھا،’’بیرونی ہاتھ پر الزام عائد کریں، چاہے اس حملے کو پاک چین اقتصادی راہ داری سے جوڑیں لیکن کبھی پاکستان نوازعسکریت پسندوں پرکوئی سوال نہ اٹھائیں کیوں کہ کچھ عفریت (مونسٹرز) وفادار بھی ہوتے ہیں۔‘‘

صحافی مبشر زیدی نے لکھا، ’’ کوئٹہ ہم شرمندہ ہیں، تم ہمارے لیے روز مرتے ہو اور ہم تمہیں روز بھول جاتے ہیں۔‘‘

اعزاز سید نے ٹوئیٹ میں لکھا،

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

 اب تو کھلنے لگے مقتل سرے بازار کے بیچ

 سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں

حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ