1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوئٹہ کے انتہائی سکیورٹی والے زون میں حملہ ہوا ہی کیوں؟

کوئٹہ میں شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد ہلاک جبکہ 112 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان اور زخمیوں میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

ترجمان حکومت بلوچستان انوارالحق کاکڑ کے بقول خودکش حملہ اس وقت کیا گیا، جب پیر کی صبح منو جان روڈ پر قتل ہونے والے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور ایڈوکیٹ کی لاش ہسپتال منتقل کی جا رہی تھی۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انوارالحق نے کہا، ’’منو جان روڈ پر بلال انور ایڈوکیٹ کو قتل کرنے کے بعد ایک منظم زاویے سے یہ خودکش حملہ کیا گیا ہے۔ خود کش حملہ آور پہلے ہی اس مقام تک پہنچ چکا تھا ، جہاں وکلاء بلال انور کی لاش کو وصول کرنے کے لیے موجود تھے۔‘‘

کاکڑ کے بقول، ’’ خودکش حملہ آور نے لوگوں کے درمیان میں خود کو دھماکے سے اڑایا ۔ مجموعی طور پر اس حملے کے نتیجے میں اب تک 70 افراد ہلاک اور 112 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے سول ہسپتال، بی ایم سی اور سی ایم ایچ منتقل کیا گیا ہے، جہاں اب بھی درجنوں افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔‘‘

انوار الحق کا کہنا تھا کہ خود کش حملہ آور ہسپتال میں عقبی گیٹ سے داخل ہوا تھا اور بیرونی گیٹ تک پہنچنے میں اس لیے کامیاب ہو گیا تھا کیونکہ وہاں لوگوں کا بہت رش تھا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ بہت بڑا سانحہ ہے اور دہشت گردوں نے بے گناہ اور معصوم شہریوں کے خون سے کھیل کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے مذموم عزائم کے لیے کسی بھی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں اور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دہشت گرد اس قسم کے بزدلانہ حملوں کے ذریعے اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔‘‘

خود کش حملے کے نتیجے میں نجی ٹی وی آج نیوز کا کیمرہ مین شہزاد احمد اور ڈان نیوز کا کیمرہ مین محمود خان بھی ہلاک ہو گئے جبکہ دنیا ٹی وی کا رپورٹر فرید اللہ زخمی ہو گیا۔ اس حملے کے ایک عینی شاہد سمیع اللہ نے بتایا کہ خودکش حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ کئی افراد کے جسم کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے۔

’آنکھوں دیکھا حال‘

ڈی ڈبلیو کو آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے سمیع اللہ نے کہا، ’’جس وقت یہ حملہ کیا گیا، اس وقت میں جناح روڈ پر سول ہسپتال کے بیرونی گیٹ کے قریب موجود تھا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مجھ سمیت کئی لوگ اس شدت کی وجہ سے روڈ پر ہی گر گئے ۔ اس وقت شعبہ حادثات کے باہر دھواں ہی دھواں دکھائی دے رہا تھا ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں ۔ ہم نے موقع پر جو لاشیں دیکھی ہیں ان میں اکثریت وکلاء کی تھیں۔‘‘

Pakistan Quetta Trauer nach Bombenanschlag vor einer Klinik

اس حملے کی ذمہ اری داعش نے بھی قبول کر لی ہے

سمیع اللہ نے بتایا کہ حملے کے فور بعد اندھا دھند فائرنگ بھی شروع ہو گئی تھی اور ہر ایک اپنے آپ کو بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہا تھا، ’’دھماکے کے بعد کا منظر بہت ہولناک تھا، جو لوگ اس حملے کا شکار ہوئے ہیں ان کی باقیات دور دور پڑی ہوئی تھیں۔ حملے میں ایسے کئی امدادی ورکر بھی ہلاک ہو ئے جو کہ قتل ہونے والے وکیل کی لاش سول ہسپتال پہنچانے کے لیے وہاں آئے ہوئے تھے ۔ اس حملے کے بعد پولیس کی متعلقہ ٹیم بہت دیر سے وہاں پہنچی۔‘‘

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے سینئر اہلکار نبی بخشن کے بقول اس خودکش حملے میں تباہی مچانے والا دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ جائے وقوعہ پر ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ابتدائی طور پر ہم نے جو شواہد اکھٹے کیے ہیں۔ ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس خودکش حملے میں دس کلو گرام سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ خود کش حملہ آور نے جو جیکٹ پہن رکھی تھی، اس میں بال بیرنگ اور نٹ بولٹ بھی استعمال کیے گئے تھے تاکہ دھماکے کی شدت بڑھائی جا سکے۔‘‘

حملے میں را ملوث ہے، صوبائی وزیر داخلہ

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے اس خودکش حملے میں بھارتی ایجنسی راء ملوث ہے اور آج ہونے والے دونوں حملے ایک ہی گروپ کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ تاہم دوسری طرف انتہا پسند گروپ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، ’’یہ ایک بہت بڑا اور غیر معمولی سانحہ ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشت گردوں نے آج کوئٹہ کو جس مقصد کے حصول کے لیے خون میں نہلایا ہے ان میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ بلوچستان کے عوام کے ساتھ مل کر حکومت دہشت گردوں کو بہت جلد انجام تک پہنچائے گی۔ میں یہ وثوق سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہونے والے دونوں حملوں میں مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی را کا براہ راست ہاتھ ہے اور جس گروپ نے یہ حملے کیے ہیں، اسے مذکورہ ایجنسی سپانسر کر رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران کچھ اہم انکشافات بھی سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں اس حوالے سے اہم پیش رفت کا امکان ہے۔‘‘

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر جشن آزادی کی تقریبات کو سبوتاژ کرنے کی ایک مذموم سازش ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’نیشنل ایکشن پلان کے تحت بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جو کامیاب کارروائیاں کی گئی ہیں، ان کے نتیجے میں بدامنی میں ملوث گروپوں کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔‘‘

CMH Quetta Pakistan

ایک منظم زاویے سے یہ خودکش حملہ کیا گیا ہے، ترجمان حکومت بلوچستان انوارالحق کاکڑ

بگٹی کے مطابق، ’’دہشت گردی میں ملوث تنظیمیں یہ کوشش کر رہی ہے کہ اس بار بلوچستان میں جشن آزادی کی شایان شان طریقے سے جو تیاریاں کی جا رہی ہیں ان کو سبوتاژ کر دیا جائے۔ دہشت گرد اس بربریت کے ذریعے حکومت کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں، مگر ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بے شک آج کا سانحہ ہم سب کے لیے بہت بڑا ہے لیکن اس سے دہشت گردی کے خلاف ہمارا عزم کبھی کمزور نہیں ہو گا۔‘‘

’حملہ سکیورٹی ناکامی کے باعث ہوا‘

بلوچستان کے معروف وکیل حمید الدین نے خود کش حملے کو سکیورٹی اداروں کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت قیام امن میں ایک بار پھر ناکام ہو گئی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ بلوچستان میں متوازی حکومت قائم ہے اور یہ حکومت ان عناصر کی ہے جو کہ یہاں ایک منظم نظریے کے تحت بد امنی پھیلا رہے ہیں۔ ‘‘

حمید الدین نے مزید کہا، ’’شدت پسند تنظییں صوبے سے ایسے پڑھے لکھے لوگوں کو ختم کرنا چاہتی ہیں جو کہ قانون اور اپنے حقوق سے آگاہ ہیں۔ سول ہسپتال میں ہونے والا آج کا خودکش حملہ ان تمام سکیورٹی انتطامات پر ایک سوالیہ نشان ہے، جن کی حکومت دعوے کرتی رہی ہے۔ آگر ریڈ زون میں بھی حکومت عوام کو تحفظ نہیں دے سکتی تو دیگر مقامات کو کس طرح محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

حمید الدین کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے دو واقعات نے سکیورٹی انتطامات کا پول کھول دیا ہے اور صوبے کے عوام کے لیے یہ دونوں سانحات کسی المیے سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’بلوچستان میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کا ایک تسلسل ہے، جس کے اثرات براہ راست عام لوگوں پر پڑ رہے ہیں۔ میں ارباب اختیار سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ اقدامات کہاں گئے، جن کے دور رس نتائج کے دعوے کیے جا رہے تھے؟ جو حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی وہ انہیں دیگر شعبوں میں ریلیف کہاں فراہم کر سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی ناکامی تسلیم کر لے اور ان خامیوں کو سامنے لائے جن کی وجہ سے آج یہ دو واقعات پیش آئے ہیں۔‘‘

خود کش حملے کے بعد کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور جو افراد حملے میں ہلاک ہوئے ہیں ان میں 40 افراد کی شناخت ہو گئی ہے۔ خود کش حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں اب بھی 30 سے زائد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے، اس لیے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادھر دوسری جانب غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس خود کش حملے میں مجموعی طور پر جو افراد ہلاک ہوئے ہیں ان کی تعداد 93 جبکہ زخمیوں کی تعداد 120 سے زائد ہے ۔

Pakistan Quetta Bombenanschlag vor einer Klinik

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے اس خودکش حملے میں بھارتی ایجنسی راء ملوث ہے

’تاجر برادری کا احتجاج‘

بلوچستان حکومت نے اس سانحے کے حوالے سے صوبے میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان کی تاجر تنظیموں نے اس واقعے کے خلاف 9 اگست کو صوبہ بھر میں شٹر ڈاؤن ہرٹال کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم نے کہا، ’’سانحہ سول ہسپتال کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ ہم اس ہڑتال کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جناح روڈ جیسے حساس علاقے میں خود کش حملہ آور کیوں آسانی سے حملے میں کامیاب ہوا ؟ یہ واقعہ سکیورٹی فورسز اور بالخصوص صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔‘‘

عبدالرحیم کے بقول حکومت کی بے حسی کے باعث بلوچستان میں لوگوں کی نہ جان محفوظ ہے اور نہ مال۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت عوام کی جان و مال کی حفاطت میں یکسر ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ قیام امن کے لیے اربوں روپے کی خطیر رقوم ہر سال بجٹ میں مختص کی جاتی ہے لیکن حکومت پھر بھی عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔‘‘

آرمی چیف کا دورہ کوئٹہ

خود کش حملے کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بھی ہنگامی دورے پر کوئٹہ پہنچے اور انہوں نے سول ہسپتال کا دورہ بھی کیا ۔ آرمی چیف کو سول ہسپتال کے دورے کے موقع پر خود کش حملے کے حوالے سے تمام معلومات سے آگاہ کیا گیا۔ کوئٹہ میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور دیگر مختلف امور کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کے دوران سیکورٹی حکام نے آج ہونے والے خود کش حملے کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔

Pakistan Quetta Bombenanschlag vor einer Klinik

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے زخمیوں کی عیادت کی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے نے کوئٹہ میں ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی سنجیدہ اور مؤثر کوششوں کے باعث بلوچستان میں امن قائم ہوا ہے مگر ملک دشمن قوتوں کو یہ امن راس نہیں آ رہا، اسی لیے بد امنی پھیلانے کے لیے بے گناہ لوگوں کے خون سے کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر حکومت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ان عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، جو بلوچستان کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

آرمی چیف نے اجلاس کے دوران صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ دہشت گردوں کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کرتے ہوئے پورے صوبے میں جامع آپریشن کیا جائے اور ان عناصر کو عبرت کا نشان بنایا جائے جو بے گناہ لوگوں کے خون سے کھیل رہے ہیں۔ قبل ازیں آرمی چیف نے بلوچستان ہائی کورٹ کا بھی دورہ کیا اور وہاں وکلاء اور ججز سے ملاقات کی۔

امن تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، نواز شریف

وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی اپنی مصروفیات منسوخ کرنے کے بعد ہنگامی دورے پر کوئٹہ پہنچے اور انہوں نے آرمی چیف کے ہمراہ سی ایم ایچ کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران وزیر اعظم نے خودکش حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت بھی کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد بلوچستان میں بد امنی پھیلا کر ’پاک۔ چین اقتصادی راہداری منصوبے‘ کو ناکام بنانا چاہتے ہیں لیکن اس مقصد کو حکومت کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت ان افراد کے غم میں برابر کی شریک ہے جو کہ اس خودکش حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیام امن کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے تک دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور اس ضمن میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کی جائے گی۔

CMH Quetta Pakistan Nawaz Sharif

وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی اپنی مصروفیات منسوخ کرنے کے بعد ہنگامی دورے پر کوئٹہ پہنچے

واضح رہے کہ رواں سال چار اگست کو وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ بلوچستان میں بد امنی میں ملوث کالعدم تنظیم یونائٹڈ بلوچ آرمی (یو بی اے) کے 6 عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اس پریس کانفرنس کے اگلے ہی روز کالعدم تنظیم یو بی اے کے ترجمان مرید بلوچ نے حکومت کے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا اور واضح کیا تھا کہ ان کی تنظیم کا کوئی رکن گرفتار نہیں ہوا ہے۔

مرید بلوچ نے ٹیلی فون کال کے ذریعے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ یو بی اے بلوچستان میں جشن آزادی کی تقریبات کو کامیاب نہیں ہوںے دے گی اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے جائیں گے۔ اس شدت پسند تنظیم کے ترجمان نے عام لوگوں کو جشن آزادی کی تقریبات سے دور رہنے کا بھی کہا تھا۔