1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوئٹہ: نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے صحافی ہلاک

پاکستان کے شورش زدہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ نا معلوم حملہ آوروں نے ایران افغان سرحد کے قریب ایک صحافی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

Pakistan Quetta Sicherheitskräfte nach Bombenanschlag (Getty Images/AFP/B. Khan)

 پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ممالک میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے

سینتیس سالہ محمد جان مقامی اردو روزنامے ’قدرت‘ کے لیے کام  کرتا تھا۔ گزشتہ روز مورخہ 12 جنوری کو جب وہ گھر واپس جا رہا تھا، تب اُسے نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سے 160 کلو میٹر جنوب میں قلات کے ضلع میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

سینئر پولیس افسر محمد علی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ موٹر سائیکلوں پر سوار دو حملہ آوروں نے پستول سے محمد جان پر فائر کیے اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ محمد علی کے مطابق حملہ آور جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

 پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ممالک میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ بلوچستان کا پسماندہ صوبہ ایک عشرے سے زائد کے عرصے سے فرقہ وارانہ اور علیحدگی پسند شورشوں کا شکار رہا ہے۔ پولیس افسر محمد علی کا کہنا ہے کہ صحافی محمد جان کی ہلاکت کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اُس نے نہ تو کبھی عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے کی شکایت درج کرائی نہ ہی کسی قبائلی یا  خاندانی جھگڑے کا ذکر کیا۔

 پولیس افسر محمد علی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی گروہ نے محمد جان کی موت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ جان بلوچستان  میڈیا کونسل میں بطور سیکریٹری کام کر رہا تھا جبکہ وہ ایک سرکاری اسکول میں استاد کے عہدے پر بھی فائز تھا۔

DW.COM