1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوئٹہ میں پولیس اکیڈمی پر حملہ، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

پاکستانی شہر کوئٹہ میں دہشت گردی کی ایک کارروائی کے نتیجے میں کم ازکم انسٹھ افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ فوج کے مطابق اس مرتبہ نقاب پوش خود کش حملہ آوروں نے پولیس کی ایک تربیتی اکیڈمی کو نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسلحے سے لیس خود کش حملہ آوروں نے کوئٹہ میں واقع پولیس کی تربیتی اکیڈمی پر دھاوا بولتے ہوئے کئی افراد کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ جب یہ حملہ کیا گیا، اس وقت اس اکیڈمی میں دو سو کے قریب کیڈٹس موجود تھے۔ پیر کی شام شروع ہونے والی حملہ آوروں کی یہ کارروائی پانچ گھنٹے تک جاری رہی، جس دوران حملہ آوروں نے کئی کیڈٹس کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔

بلوچستان میں کومبنگ آپریشن شروع، پچیس مشتبہ افراد گرفتار

کوئٹہ حملہ، داعش کے بعد طالبان نے بھی ذمہ داری قبول کر لی

بلوچستان میں تشدد کی نئی لہر، ’ہدف پاک چین اقتصادی راہداری‘

اس حملے میں زندہ بچ جانے والے ایک زیر تربیت پولیس اہلکار نے روئٹرز کو بتایا، ’’جنگجو سیدھے ہماری بیرک میں پہنچے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ ہم چیختے چلاتے بیرک میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔‘‘ انتہا پسند گروہ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس جہادی گروہ کی ویب سائٹ اعماق پر جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملہ اس کی حامی جنگجوؤں نے سر انجام دیا ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی، جب اس تربیتی اکیڈمی میں کیڈٹس آرام کر رہے تھے یا سو رہے تھے، ’’دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا جبکہ تیسرا حملہ آور سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ قبل ازیں ایسی اطلاعات تھیں کہ ان حملہ آوروں کی تعداد پانچ یا چھ تھی۔

روئٹرز نے بتایا ہے کہ جائے حادثہ پر ایک نو عمر لڑکے کی لاش کو ہستپال منتقل کیا گیا، جو مبینہ طور پر ایک حملہ آور تھا۔ یہ وہی حملہ آوار قرار دیا گیا ہے، جو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ سر پر گولی لگنے سے مارا گیا۔

دوسری طرف کوئٹہ میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار شیر افگن نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے اندازہ ہوا ہے کہ ان حملہ آوروں کا تعلق سنی جنگجو گروہ ’لشکر جھنگوی‘ سے تھا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ تینوں حملہ آور افغانستان سے ہدایات حاصل کر رہے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان حملہ آوروں کی کمیونیکشن کو انٹرسپٹ کرنے کے بعد یہ اندازہ لگایا گیا ہے۔

Pakistan Angriff auf eine Polizei-Schule (Picture-Alliance/AP Photo/A. Butt)

ہلاک شدگان میں زیادہ تر زیر تربیت پولیس اہلکار بتائے گئے ہیں

Pakistan Angriff auf eine Polizei-Schule (Picture-Alliance/dpa/F. Ahmad)

اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے مقامی میڈیا کو بتایا، ’’دو تین قبل ہمیں خفیہ معلومات موصول ہوئی تھیں کہ کوئٹہ شہر میں ممکنہ طور پر حملہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔ لیکن انہوں (حملہ آوروں ) نے پولیس ٹریننگ کالج کو نشانہ بنایا۔‘‘

DW.COM