1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوئٹہ میں پانچ چیچن شدت پسند ہلاک، پولیس

پاکستانی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ سے منسلک پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک کر دیے ہیں۔ پولیس اور پیرا ملٹری حکام نے انہیں چیچن قرار دیا ہے، جو خودکش دھماکے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

default

ان افراد کو جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں ہلاک کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ان میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کو پیرا ملٹری کی ایک چوکی کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

اس دوران ایک فوجی بھی زخمی ہوا، جو بات ازاں چل بسا۔ رواں ماہ پاکستانی سرزمین پر امریکی کارروائی میں دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعدہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ داؤد جونیجو کا کہنا ہے کہ حملہ آور چیچن تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم صحافیوں کو ایک روسی پاسپورٹ دکھایا گیا، جس پر ایک مرد کی تصویر ہے۔

روئٹرز کے مطابق ایک پاکستانی ٹیلی وژن نے اس کارروائی میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون کی ویڈیو نشر کی، جو مرنے سے پہلے ہاتھ لہرا رہی تھی۔

عینی شاہد ظہیر خان نے بتایا، ’میں نے انہیں گاڑی سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ پولیس ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ اچانک ایک دھماکہ ہوا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔‘

NO FLASH Pakistan Charsadda Selbstmordanschlag Taliban

چارسدہ حملے کو طالبان نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ کم از کم ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔ دیگر پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ یہ پانچوں افراد افغانستان سے پاکستان پہنچے تھے۔

پاکستانی طالبان القاعدہ سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے شمال مغربی علاقے چارسدہ میں پیرا ملٹری اکیڈمی پر خود کش حملے میں اسّی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے ہی قبول کی۔

افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج طالبان شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہیں۔ امریکہ پاکستان کے اس علاقے کو خطرناک خطہ قرار دیتا ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج پر حملوں اور دہشت گردی کے منصوبے اسی علاقے میں بنتے ہیں۔ ان علاقوں میں ڈرون حملے بھی ہوتے ہیں۔ تاہم طالبان کی جانب سے خودکش حملوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے جبکہ خود کش حملوں میں خواتین کی شمولیت شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گل/ خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس