1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کن فلمی میلہ:آغاز سے قبل ہی الجزائر پر فلم تنازعہ بنی

الجزائر سابقہ فرانسیسی کالونی رہ چکا ہے۔ اُس عہد کے بارے میں بننے والی ایک فلم اس ماہ کے دوران شروع ہونے والے بین الاقوامی کن فلمی میلے میں اپنے سیاسی موضوع کی بنیاد پر متنازعہ ہو گئی ہے۔

default

کن فلمی میلے کا ایک سابقہ پوسٹر

فرانسیسی شہر کن کا فلمی میلہ عالمی فلمی میلوں میں ایک سند رکھتا ہے۔کئی فلموں کے ورلڈ پریمیئر کے لئے اس میلے کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ مختلف کیٹگریز میں انعامات بھی دئے جاتے ہیں۔ ہر سال دنیا بھر سے فلمی صنعت کی مقبول شخصیات کن شہر پہنچتی ہیں۔ ان میں بھارت کی فلم انڈسٹری کے کئی نامی افراد بھی کن شہر میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔

کن فلمی میلے کے آغاز سے قبل ہی الجزائر کے ایک فلم کار رشید بوشارب کی فلم پر فرانس میں تنقید کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کی نمائش پر پابندی عائد کردی جائے۔ فرانسیسی تنقید نگاروں کے ساتھ ساتھ اب تنازعے میں کئی سیاستدان بھی شامل ہو گئے ہیں۔ رشید بوشارب کی فلم ’آؤٹ سائڈ آف دی لا‘ میں الجزائر پر فرانسیسی قبضے اور نوآبادیاتی دور میں کئے گئے تاریخی جبر و استبداد کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Frankreich Filmfestival in Cannes Kino mit Logo

کن فیسٹول کے شرکاء: فائل فوٹو

یہ فلم الجزائر کے شہر سطیف میں سن انیس سو پینتالیس میں مظاہرین پر فرانسیسی فوج کی جابرانہ کارروائی پر مبنی ہے۔ اس کارروائی کے دوران ہزاروں افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس فوجی کارروائی میں بچ جانے والے دو بھائی بعد میں آزادی کی جدوجہد میں شامل ہو جاتے ہیں۔ آزادی کے موضوع پر بننے والی اس فلم میں فلمساز کے مطابق صرف حقائق کو سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔

فرانسیسی پارلیمنٹ کے رکن لائنل لوکا نے فلم کے پلاٹ کو مسترد کرتے

61. Internationale Filmfestival in Cannes

کن فلمی میلے کا جھنڈا

ہوئے اس کو فرانسیسی تشخص پر ایک ضرب قرار دیا ہے۔ انہوں نے فلم ساز کے اُس دعوے کو بھی مسترد کردیا ہے، جس میں اس فلم میں تاریخی حقائق بیان کرنے کا جواز پیش کیا گیا تھا۔ فرانسیسی ممبر پارلیمنٹ کے مطابق یہ تاریخ کا بیان منفی انداز میں کیا گیا ہے۔

اسی طرح جنگ آزادی کے دوران فرانس کا حامی الجزائری باشندوں پر مشتمل ہارکی گروپ بھی فلم پر تنقید کر رہا ہے۔ فرانس کے قدامت پسند حلقے کی جانب سے کن فلمی میلے کے دوران اس فلم کی نمائش کے خلاف احتجاج بھی پلان کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فرانس کے وزیر ثقافت فریڈرک متراں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ الجزائر جنگ کے المیے کا بیان کوئی منفی رویہ نہیں ہے۔ یہ فرانس کے ماضی کے ساتھ ایک رشتے کو استوار کرنے کا عمل بھی ہو سکتا ہے۔ متراں کے مطابق رشید بوشارب کی فلم کو متنازعہ قرار دینے والوں نے ابھی تک فلم کو دیکھا نہیں ہے۔ متراں نے کہا ہے کہ وہ حتمی رائے فلم دیکھ کر قائم کریں گے۔

رشید بوشارب الجزائری نژاد فرانسیسی شہری ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت فرانس ہی میں ہوئی ہے۔ الجزائر کے اخبار الوطن کے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ فلم ’آؤٹ سائڈ آف دی لا‘ میں رشید بوشارب نے اس عہد میں فرانس اور الجزائر کے درمیان تعلقات کا احاطہ کرنے کی ایک عملی کوشش کی ہے۔ کن شہر کی مقامی انتظامیہ کی عہدے دار کلاؤڈے سیرا کے مطابق فلم کی نمائش اکیس مئی کو شیڈول ہے اور اسی دن الجزائرکی جنگ آزادی میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ فیسٹول کے سربراہ نے بھی ’آؤٹ سائڈ آف دی لا‘ تنازعے کو خیالات کی جنگ قرار دیا ہے۔

کن فلمی میلے کا آغاز اگلے منگل یعنی بارہ مئی سے ہو گا اور یہ میلہ 23 مئی تک جاری رہے گا۔ انعام حاصل کرنے والی فلموں کے لئے قائم جیوری کے سربراہ عالمی شہرت کے امریکی ہدایت کار ٹم برٹن ہیں اور اس جیوری کے اراکین میں بھارت کے معروف اداکار و ہدایتکار شیکھر کپور بھی شامل ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM