1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کنڑ، ننگرہار میں ہلاکتوں کا ذمہ دار پاکستان، کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی کے بقول پاکستان کے ساتھ سرحد پر واقع افغان صوبوں کُنڑ اور ننگرہار میں شہری ہلاکتوں کے حالیہ واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔

default

افغان صوبے کنڑ میں ایک امریکی فوجی چوکی، فائل فوٹو

افغان صدر نے ان ہلاکتوں کے سلسلے میں پاکستانی سکیورٹی دستوں کو بالواسطہ طور پر قصور وار قرار دیتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا کہ افغان علاقوں میں یہ حملے بند ہونے چاہییں۔ حامد کرزئی کے مطابق، ’’اگر ان حملوں کا ذمہ دار پاکستان نہیں، تو پاکستانی حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے کون ہے؟‘‘

کابل میں صدر کرزئی کے دفتر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کو یہ بات اچھی طرح پتہ ہونی چاہیے کہ اگر معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جائے گا، تو افغان حکومت اس پر اپنا رد عمل بھی ظاہر کرے گی۔

Afghanistan Landschaftsbilder Provinz Kunar

افغان صوبے کنڑ کا ایک فضائی منظر

افغان سکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پاکستانی علاقوں سے افغان علاقوں میں مبینہ طور پر 470 راکٹ فائر کیے جا چکے ہیں۔ کابل میں ان حکام کے بقول ان راکٹ حملوں میں 36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 12 بچے بھی شامل ہیں۔

افغان سرحدی دستوں کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر پاکستانی علاقوں سے افغانستان کے جن علاقوں کا نشانہ بنایا گیا، وہ ایسے مقامات ہیں، جو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے دستوں نے خالی کیے تھے۔ پھر وہاں سے مقامی شہری آبادی کی نقل مکانی کے بعد ان سرحدی علاقوں پر مبینہ طور پر پاکستانی طالبان نے قبضہ کر لیا۔

افغان بارڈر گارڈز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے بعد نیٹو دستوں اور افغان سکیورٹی فورسز نے مل کر پاکستانی علاقے سے ان حملوں کے رد عمل میں جوابی فائرنگ بھی کی۔ تاہم پاکستانی فوج اور خود افغانستان متعینہ نیٹو کے فوجی دستوں کے ترجمان نے ایسے کسی بھی واقعے کی اطلاع کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر یا مشترکہ سرحدی علاقے میں کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔

اسی دوران کابل میں افغان وزیر دفاع محمد ظاہر عظیمی نے کنڑ اور ننگرہار میں افغان شہریوں کی حالیہ ہلاکتوں کی ذمہ داری پاکستان کے سر ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری کو سرحد پار سے ان حملوں کو رکوانا چاہیے اور اب تک ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی تلافی کرنی چاہیے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM