1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کنٹرول لائن پر بھارتی فوجی مارا گیا، ’لاش مسخ کر دی گئی‘

نئی دہلی میں وزارت دفاع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے متنازعہ علاقے میں کنٹرول لائن پر ایک بھارتی فوجی مارا گیا ہے، جس کی ’لاش بعد میں پاکستان کے زیر انتظام علاقے سے آنے والے عسکریت پسندوں نے مسخ کر دی‘۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ہفتہ انتیس اکتوبر کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق بھارتی وزارت دفاع کے حکام نے بتایا کہ جمعہ اٹھائیس اکتوبر کی رات اس بھارتی فوجی کو کنٹرول لائن کے قریب ہلاک کرنے کے بعد عسکریت پسندوں نے اس کی لاش کو بری طرح مسخ بھی کر دیا۔

انڈین آرمی کے ایک ترجمان نے بتایا، ’’اس واقعے کے دوران عسکریت پسندوں اور بھارتی دستوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں ایک عسکریت پسند کے علاوہ ایک بھارتی فوجی بھی مارا گیا۔‘‘ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے تبادل کے دوران پیچھے ہٹتے ہوئے عسکریت پسندوں میں سے ایک نے اس بھارتی فوجی کی لاش کو بری طرح مسخ بھی کر دیا اور یہ شدت پسند مبینہ طور پر ’پاکستانی فوج کی طرف سے فائرنگ کی آڑ میں‘ واپس کنٹرول لائن کے پار پاکستان کے زیر انتظام علاقے کی طرف چلے گئے۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ بھارتی فوج کے ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ واقعہ ’ایسی کھلی بربریت‘ ہے، جس کا بھارت کی طرف سے مناسب فوجی جواب دیا جائے گا۔

ڈی پی اے نے مزید لکھا ہے کہ یہ تازہ ہلاکت خیز واقعہ ایسے وقت پر پیش آیا ہے، جب پاکستانی اور بھارتی دستوں کے مابین حالیہ دنوں میں کنٹرول لائن پر کشیدگی اور مسلح جھڑپیں کافی زیادہ ہو چکی ہیں۔ اس کشیدگی میں واضح اضافہ اس وقت ہوا تھا جب گزشتہ مہینے کشمیر میں ہی اُڑی کے مقام پر عسکریت پسندوں کے ایک بھارتی آرمی بیس پر بڑے حملے میں 19 فوجی مارے گئے تھے۔

Kaschmir Grenzstreitigkeiten Indien Pakistan Verletzung Waffenruhe (picture-alliance/dpa/A. Mughal)

کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستانی اور بھارتی دستوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور شیلنگ کا تبادلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے

اس سلسلے میں نئی دہلی کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ کشمیری عسکریت پسندوں کے ایک ایسے گروپ نے کیا، جو مبینہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام علاقے سے اپنی کارروائیاں کرتا ہے جبکہ پاکستان اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

بھارت کا پاکستان پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح حملے کرنے والے عسکریت پسند گروپوں کی پشت پناہی کرتا ہے جبکہ پاکستان، جو کشمیری عسکریت پسندوں کو حریت پسند قرار دیتا ہے، اس الزام کو بھی مسترد کرتا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کی ایک بڑی تحریک 1980ء کی دہائی میں شروع ہوئی تھی، جس دوران آج تک پیش آنے والے ہزاروں پرتشدد واقعات میں 50 ہزار سے زائد عام شہری، سکیورٹی اہلکار اور عسکریت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان اعداد و شمار کے برعکس کشمیری علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں اور عسکریت پسند گروپوں کا دعویٰ ہے کہ خونریزی کی موجودہ کئی سالہ لہر کے دوران کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اب تک 90 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

DW.COM