1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ‘ سے ایک شہری ہلاک، پانچ زخمی

پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ کشمیر کے متنازعہ علاقے میں کنٹرول لائن کے پار سے ’بھارتی دستوں کی نئی فائرنگ‘ کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔ دونوں ملکوں کے مابین اس وقت شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات بیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ملکی وزارت خارجہ کے حکام نے بتایا کہ اس واقعے میں ہمالیہ کے اس منقسم خطے میں لائن آف کنٹرول کے پار سے بھارتی دستوں کی طرف سے مبینہ طور پر بلااشتعال کی جانے والی اچانک فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک ہو گیا جبکہ دو خواتین اور دو بچوں سمیت کم از کم پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔

بتایا گیا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریبی علاقے کے مقامی رہائشی ہیں۔ اس سے پہلے اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹوں میں صرف دو خواتین اور دو بچوں کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا تھا۔

پاکستانی فوج نے اس فائرنگ کے لیے بھارت کو ذمے دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ نئی دہلی کی طرف سے دونوں ملکوں کے مابین جنگ بندی کی ایک اور واضح خلاف ورزی ہے۔

اسی دوران پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا  نے ٹوئٹر پر وقفے وقفے سے جاری کیے جانے والے اپنے متعدد پیغامات میں کہا کہ یہ فائرنگ بدھ 19 اکتوبر کے روز کی گئی، جس کا پاکستانی دستوں کی طرف سے جواب بھی دیا گیا۔

Grenze zwischen Indien und Kaschmir (picture-alliance/dpa/J. Singh)

منقسم کشمیر میں کنٹرول لائن مقامی رہائشی علاقوں سے دور نہیں ہے

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد اطراف کے فوجی دستوں کے مابین بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات ہونے والا فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس دوران بھارتی دستوں نے فائرنگ کرنے کے علاوہ مارٹر شیل بھی فائر کیے۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی حکام نے الزام لگایا ہے کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی کے اس نئے واقعے میں فائرنگ کا آغاز مبینہ طور پر پاکستانی دستوں کی طرف سے کیا گیا۔

جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں گزشتہ ماہ سے کافی اضافہ ہو چکا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اڑی کے مقام پر ایک ملٹری بیس پر کشمیری عسکریت پسندوں کے ایک خونریز حملے کے بعد بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کی ہیں۔ پاکستانی حکومت اور فوج نے نئی دہلی کے اس دعوے کو سختی سے رد کر دیا تھا۔

Indien Pakistan Kaschmir Region Konflikt (Sajjad Qayyum/AFP/Getty Images)

اطراف کے فوجی دستوں کے مابین فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے کے نتائج کا سامنا مقامی سول آبادی کو بھی کرنا پڑتا ہے

ستمبر کے مہینے میں اڑی میں ایک بھارتی ملٹری بیس پر کشمیری عسکریت پسندوں کے حملے میں 19 فوجی مارے گئے تھے اور یہ کارروائی گزشتہ ایک عشرے سے بھی زائد عرصے کے دوران کشمیر کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں نئی دہلی کے فوجی دستوں پر کیا جانے والا سب سے خونریز حملہ تھی۔

کئی ہفتوں سے جاری اس کشیدگی دوران دونوں ملکوں کے فوجی دستوں کے مابین کنٹرول لائن پر فائرنگ کے تبادلے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں اسلام آباد کے بیانات کے مطابق اب تک دو پاکستانی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔

DW.COM